Skip to main content

نفرت-سے شروع-ہونے-والی -محبت-کی-داستان

 نفرت_سے_شروع_ہونے_والی_محبت_کی_داستان

حمنہ_تنویر 

قسط نمبر 3


آج مشی کی کلاس جلدی تھی اس لیے وہ یونی آتے ہی فوراً کلاس لینے چلی گئ جاتے ہوےُ اسے عادی نظر آیا جو اسے ہی غالباً غصے سے گھور رہا تھا مشی بھی گھوری سے نوازتی مسکراتی نکل گئ... عادی آج بہت اچھے موڈ میں تھا کیونکہ اس کا کام مکمل ہو چکا تھا اور آج وہ پانی سے بھرے غبارے لیے گھوم رہا تھا جس کا کبھی کوئ شکار ہوتا تو کبھی کوئ اور اب سعد کی باری تھی سعد یہ سیدھا تمہارے منہ پر میری جان 😘

عادی دیکھ نہ کر میں بتا رہا ہوں کسی کے لگ جاےُ گا لیکن اسے کہاں پرواہ تھی 😅 اور سعد کو اپنی کپڑوں کی ٹینشن تھی جیسے ہی عادی نے پانی سے بھرا غبارہ پھینکا وہ سامنے سے آتی مشی کو جا لگا اوو شٹ!!!!! اس چڑیل کو بھی ابھی آنا تھا عادی نے دانتوں تلے زبان دبایُ کہ اب ایک نیا محاذ کھلنے والا تھا ان دونوں کے بیچ وہ جنگ کے لیے خود کو تیار کرنے لگا جیسے ہی مشی کے غبارہ لگا وہ تلملاتی ہوئ عادی کے پاس آئ. آخر آپ کا مسلئہ کیا ہے میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟ عادی بالوں میں لاپرواہی سے ہاتھ پھیرتا اِدھر اُدھر دیکھنے لگا جیسے وہ کسی اور سے بات کر رہی ہو. مشی مزید تپ گئ مسڑ معید احمد میں آپ سے بات کر رہی ہو. اووہ مجھے لگا شاید آپ دیواروں سے مخاطب ہیں کیونکہ اتنا تو بولتی ہیں آپ. مشی ضبط کیے عادی کو گھورنے لگی اور ہاں رہی بات اس بیلون کی تو آپ خود سامنے آئیں میں نے قصداً آپ کو نہیں مارا اگر یہ بھی آپ کو منظو نہیں تو پھر آپ یہ سمجھ لیں کی جو حرکت آپ نے اس دن کی تھی نہ یہ اسکا جواب ہے کیونکہ نہ تو میں بھولتا ہوں اور نہ ہی معاف کرتا ہوں عادی نے جلا دینے والی مسکراہٹ سے کہا جب کہ مشی خاموش رہی وہ ٹھیک تھا مشی منہ پھلاےُ پیر پٹختی چلی گئ عادی نے اسے چاروں شانے چت کر دئیے تھے وہ خوش تھا

کہ آج وہ اسکی زبان بند کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا.. گڈ جاب سعد نے اسے تھپکی دیتے ہوےُ کہا عادی مسرور سا مسکرا دیا. فائنلی آج مس چڑیل کی بولتی بند ہوئ.. سعد نے قہقہ لگایا.. چل سعد اس جیت کو سیلیبریٹ کریں 

وہ دونوں یونی سے چلے گےُ. جب کہ مشی نینی کو ڈھونڈ رہی تھی جب نینی نے اسے لائبریری آنے کا میسج کیا... مشی نے میسج پڑھ کر لائبریری کا رخ کیا. نینی باہر ہی کھڑی تھی کیا ہوا نینی مشی اپنی بات بھول کر نینی سے پوچھنے لگی تم. میرا ایک کام کرو گی ایک کیا ہزار بھی کر دوں گی پوچھ کیوں رہی ہو بس بولو مشی نے کہا... یار یہ جو لائبریرین ہے نہ کل اس نے مجھے باہر نکال دیا تھا میں چاہتی ہوں کہ تم اسے مزہ چکھاؤ... بس اتنی سی بات ابھی سیدھا کرتی ہوں اسے مشی نے شرارت سے مسکراتے ہوےُ کہا اور مشی کو بھی عادی پے آیا غصہ نکالنے کا موقع مل گیا.. نینی مطمئن سی مشی کے ہمراہ اندر گئ اور دونوں کتابیں لے کر بیٹھ گئیں اب دیکھتی جاؤ مشی نے آنکھ مارتے ہوےُ کہا اور اونچی اونچی آواز میں پڑھنے لگی آس پاس کے سٹوڈنٹس نے مشی کو گھورا لیکن وہ کہاں کسی بات کا اثر لینے والی تھی کچھ نے اسی منع بھی کیا لیکن اس نے کسی کی نہ سنی اور نینی بیٹھی ہنسے جا رہی تھی تنگ آکر لائبریرین ان کے پاس آیا.. مس یہ لائبریری ہے تو آپ شور مت کریں اووہ سوری مجھے دھیان نہیں رہا مشی چپ ہو گئ تو وہ چلا گیا جب کہ نینی ناراض ہوگیُ یہ کیا مشی جسے سبق سکھانا تھا تم نے اتنے آرام سے اس کی بات مان لی.. تم ٹینشن کیوں لے رہی ہو بس دیکھتی جاؤ کھیل ابھی ختم نہیں ہوا نینی مزے سے اس کی آگے کی کاروائ دیکھنے لگی مشی نے پھر سے اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا.. لائبریرین پھر سے ان کے پاس آیا مشی دوبارہ خاموش ہوگی اور اس کے جانے کے بعد پھر سے شروع ہو گئ وہ پھر آیا اور چپ کروا کر چلا گیا مشی اس کے جاتے ہی پھر شروع ہو جاتی...یہ سب کوئ 3 یا 4 بار ہوئ اب کے اس نے خاموش کرانے کے بجاےُ باہر نکلنے کو کہا... کیوں میں کیوں باہر جاؤں میں کسی شرط پر بھی نہیں جاؤں گی جو کرنا ہے کر لو مشی بھی اڑ گئ.... اب کہ وہ زرا نرم پڑا دیکھیں یا تو آپ خاموشی سے پڑھیں اگر نہیں تو یہاں سے باہر چلی جائیں... ایویں میں تو باہر نہیں جاؤں گی اور میرا جیسے دل کرے گا میں ویسے ہی پڑھوں گی پیسے بھرتے ہیں یہاں پڑھنے کے اللہ کے نام پر نہیں پڑھا رہے جو باہر نکالو گے.... لائبریرین کو سمجھ نہ آئ کہ اب کیا کرے ٹھیک ہے پھر مجھے سر کو بلانا پڑے گا. ہاں ٹھیک ہے سر عامر کو بلا لوں پھر ریکھیں گے... مشی نے نینی کی طرف دیکھا جو بڑے مزے لے رہی تھی مشی نے اشارے سے پوچھا کہ ٹھیک ہے نینی نے اوکے کا سائن دکھایا لیکن مشی کا ابھی دل نہیں بھرا تھا سر عامر آےُ اور لائبریرین نے انہیں ساری بات بتایُ سر نے ناراضگی سے مشی سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے مشی مسکرا رہی تھی سر زیادہ دیر چہرے پر خفگی نہ رکھ سکے اور اب نرمی سے پوچھا کہ وجہ بتائیں... مشی نے کہا کہ اگر یہ نینی سے معافی مانگ لے تو میں چپ کر کے چلی جاوُں گی ورنہ پوری یونی بھی مجھے نہیں نکال سکتی... اچھا منگ لے گا معافی لیکن کیوں؟ جب کہ لائبریرین کا منہ کھل گیا اس بات پر.. کل اس نے نینی سے بدتمیزی کر کے اسے باہر نکالا تھا اب اس کے علاوہ کوئ صورت قابلِ قبول نہیں مشی نے حتمی انداز میں کہا جب کہ اسے کل کے واقعے کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ تھا اس نے اپنی طرف سے بولا.... سر کو مشی کی طبیعت کا پتہ تھا اس لیے اسے سمجھانے لگے کہ یہ یہاں سے ایسے نہیں جاےُ گی اب تم دیکھ لو ego ضروری ہے یا لائبریری کا ڈسپلن... کچھ سوچ کر اس نے سوری کہ دیا...

کیا کہا انہوں نے سر مجھے سنائ نہیں دیا مشی نے معصومیت سے کہا جب کہ نینی کے دانت اندر ہی نہیں جا رہے تھے 

سوری اب کہ اس نے قدرے چلا کر کہا اٹس اوکے مشی نے احسان کرنے کے انداز میں کہا اور فاتحانہ مسکراہٹ لیے نینی کے ساتھ باہر نکل گئ..... مشی؟ سر نے پیچھے سے آواز دی جی سر آپ نے مجھے اسی لیے بلایا تھا نہ سوالیہ نظروں سے پوچھا؟ جی سر مجھے پتہ تھا کہ آپ میری ہی سائیڈ لیں گے اور آپ نے بلکل ویسے ہی کیا تھینک یو سر.. مشی نے بچوں کی طرح خوش ہو کر کہا سر نے مسکراتے ہوےُ ویلکم کہا اور چل دئیے سر کے جاتے ہی فضا میں دونوں کے قہقہے بلند ہوےُ مشی کا ہنس ہنس کر حال برا ہو رہا تھا توبہ نینی میں کب سے کنڑول کر رہی تھی وہ ابھی بھی ہنس رہی تھی جب کہ نینی سے تو کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا کچھ دیر بعد مشی نے نینی سے پوچھا کہ کل ویسے ہوا کیا تھا نینی نے کہا کہ غلطی میری ہی تھی میری سعد سے فون پر لڑائ ہو رہی تھی تو اس نے ایک بار وارن کیا اور دوسری بار میں باہر تھی مشی کی حیرت کی حد تھی وہ دونوں پھر سے ہنسنے لگیں تھیں

                         *___________________*

سعد,عادی اور اس کے کزنز وائنز کی بوٹلس لے کر عادی کے فارم ہاؤس پہنچے.. وہ لوگ کبھی پیتے نہیں تھے صرف انجواےُ کے لیے اڑاتے تھے آج بھی ایسے ہی کیا تھا فل وولییم میں گانے چل رہے تھے عادی بہت خوش تھا... کافی دیر ہلہ غلہ کرنے کر بعد عادی کے کزنز چلے گےُ اور سعد اور عادی کی سموکنگ کا دور چلا وہ سب کے سامنے بہت کم پیتے تھے... پتہ ہے سعد آج مس چڑیل کی آنکھوں میں ہار کا منظر دیکھ کر بہت سکون ملا جو آگ اس نے لگائ تھی آج بجھ گئ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرا منہ نوچ لیتی..... ہاہاہاہاہا دونوں نے قہقے لگاےُ عادی اور سعد کافی دیر تک مشی کر بارے میں باتیں کرتے رہے اس کے بعد گھر کے لیے روانہ ہو گۓ 

                          *________________*

ہوسٹل میں آ کر مشی نے نینی کو عادی والی ساری بات بتایُ پہلے اس کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا لیکن نینی کو بتاتے ہوےُ پھر سے غصہ آ گیا میرا تو دل کر رہا تھا اس کا منہ نوچ لوں 😤

جب کہ نینی کی ضبط کے باوجود ہنسی نکل گئ نینی تم میری دوست ہو یا اسکی مشی نے مصنوعی خفگی سے کہا یار ہوں تو تمہاری دعست لیکن مجھے اب افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے مس کر دیا نینی ابھی تک مسکرا رہی تھی بھاڑ میں جاؤ تم بھی مشی نینی کو کشن مار کر اپنے بیڈ ہر لیٹ گئ نینی کو پتہ تھا کہ یہ ناراضگی صرف رات کے لیے ہے صبح وہ پھر سے پہلے جیسی ہو گئ کیونکہ ان کی ایک دوسرے میں جان بستی تھی سکول ٹائم سے وہ دونوں ساتھ تھیں ان میں بہنوں جیسا پیار تھا لڑتی بھی تھیں اور مسکراتیں بھی تھیں ان دونوں کا ساتھ ایک دوسرے کے لیے نعمت سے کم نہ تھا دنیا کے حسین رشتوں میں سے ایک حسین رشتہ تھا سچ کہتے ہیں کہ مخلص دوست ملنا کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا اور اِن دونوں کو یہ نعمت حاصل تھی 😇    

                           *_____________*

مشی جب صبح اٹھی تو شیشے پر لپ اسٹک سے بڑا بڑا سوری مشی جانو ساتھ ایک سمائلی تھی مشی مسکرا دی نینی غالباً شاور لے رہی تھی جیسے ہی وہ باہر نکلی مشی نے اسے گلے لگا لیا لو یو جانی... لو یو ٹو مشی. پھر مشی بھی شاور لینے چلی گئ. آج اس نے جینز کے ساتھ ڈارک بلیو کلر کی گھٹنوں تک آتی شرٹ,بلیو کھوسہ جو اس کے گورے پیروں کو مزید پُرکشش بنا رہا تھا آدھے بال کیچر میں قید تھے بلاشبہ وہ بہت حسین لگ رہی تھی جس پر کسی کا بھی دل آ جاےُ شاید یہ رنگ کا کمال تھا جو اس پر بہت جچ رہا تھا ہاتھوں پر بلیو ہی کلر کی نیل پینٹ لگے وہ مکمل تیار تھی ۔

_____________

 آج مشی نے جینز کے ساتھ ڈارک بلیو کلر کی گھٹنوں تک آتی شرٹ,بلیو کھوسہ جو اس کے گورے پیروں کو مزید پُرکشش بنا رہا تھا آدھے بال کیچر میں قید تھے بلاشبہ وہ بہت حسین لگ رہی تھی جس پر کسی کا بھی دل آ جاےُ شاید یہ رنگ کا کمال تھا جو اس پر بہت جچ رہا تھا ہاتھوں پر بلیو ہی کلر کی نیل پینٹ لگے وہ مکمل تیار تھی...

کلاسیز لینے کے بعد مشی اور نینی گھاس پر بیٹھی تھیں.. مشی خیر تو ہے تمہارا کافی وقت ارسل کے ساتھ گزرتا ہے. نہیں پاگل ایسا کچھ بھی نہیں ہم صرف اچھے دوست ہیں وہ اس وجہ سے کہ وہ سٹڈی میں میری بہت ہیلپ کرتا ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں....سہی ہے میں تو بس یونہی پوچھ رہی تھی.... آتے جاتے لڑکے مشی کو دیکھ کر جاتے اچانک مشی کی نظر سامنے کھڑے معید پر پڑی جو سعد کے ساتھ تھا اور ان کے پاس دو لڑکیاں کھڑی تھیں جو غالباً عادی سے نمبر مانگ رہی تھی جب کہ وہ نخرے دکھا رہا تھا مشی نے افسوس سے منہ پھیر لیا. عادی نے آج ریڈ پینٹ کے ساتھ بلیو کلر کی شرٹ پہن رکھی تھی بازو ہمیشہ کی طرح اوپر کیے بائیں ہاتھ میں رسٹ واچ پہنے وہ درخت کے ساتھ ٹیک لگاےُ کھڑا تھا اگر مشی اور عادی کو ایک ساتھ کھڑا کیا جاتا تو وہ ایک مکمل کپل کی عکاسی کرتے کیونکہ دونوں ہی نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہے تھے... 

عادی کی نظر مشی پر پڑی تو ایک پل کو نظر ہٹانا ہی بھول گیا لیکن ایک لمحہ لگا تھا اسے جھٹکنے اور خود کو سنبھالنے میں اور منہ پھر کر سعد سے بات کرنے لگا.... 

نینی یہ عادی خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے. کیوں اب کیا ہو گیا. وہ دیکھو اس نے ان کی طرف اشارہ کیا ایسے کر رہا ہے جیسے کسی ریاست کا شہزادہ ہو... اس سے زیادہ غصہ تو مجھے ان لڑکیوں پر آرہا ہے کہ جنہوں نے لڑکوں کا دماغ خراب کیا ہے اور اب کیسے مزے سے اپنی تذلیل کروا رہی ہیں لیکن افسوس انہیں اس چیز کا احساس ہی نہیں بلکل سہی کہ رہی ہو مشی انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ ان کا لیول کیا ہے اور اس طرح لڑکوں کے سامنے خود کو گرا رہیں ہیں انہیں لگتا ہے کہ یہ لڑکوں کو یوز کر رہی ہیں مشی نینی کی بات کاٹتے ہوےُ بولی لیکن اصل میں لڑکے ان کو یوز کرتے ہیں اور ان کی عزت سے کھیلتے ہیں کاش کہ وہ اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال کر لیں اور ایسا نہ کریں.... بلکل..... پتہ ہے مشی مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس دو پل کے ریلیشنشپ سے کیا تسکین ملتی ہے.... بس یار یہ نفس ہے جو انسان کو ان چیزوں کے لیے اکساتا ہے اگر نفس پر قابو ہو تو آپ ایسی کوئ حرکت نہیں کرتے بلکہ جھٹک دیتے ہیں تھوڑا مشکل ضرور لیکن ناممکن نہیں اس لیے تو کہتے ہیں کہ گناہ میں لذت ہے اور گناہ کا راستہ آسان ہے اور انسان ہمیشہ آسانی ڈھونڈتا ہے لیکن یہ آسانی دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا کرواتی اور یہ راستہ جہنم تک لے جاتا ہے اگر سب کو یہ بات سمجھ آ جاے تو پھر لڑکے کبھی ان کے ساتھ نہ کھیل سکیں. سعد اور عادی بھی ان دونوں کے ساتھ آکر بیٹھ گۓ اس لیے وہ چپ ہو گئیں.

اگرچہ وہ دونوں دین کے قریب نہیں تھیں لیکن اپنی عزت انہیں جان سے بھی زیادہ پیاری تھی کیونکہ انسان خاص کر عورت کے لیے عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا اگر یہی بات سمجھ آ جاے تو بہت سی زندگیوں کا مقدر آنسو اور پچھتاوا نہ بنے..

وہ چاروں ابھی وہیں بیٹھے تھے جب ایک لڑکی ان کے پاس آئ معصوم سی شکل والی اور انہیں سلام کیا. سلام کا جواب دینے کے بعد وہ چاروں سوالیہ نظروں سے اس لڑکی کو دیکھنے لگے... میرا نام صبا ہے اور مجھے ثنا سے بات کرنی ہے.... نینی اور وہ لڑکی بات کرنے لگے جب کہ مشی اس کے نام میں اٹک کر رہ گئ تھی. یار نینی اس لڑکی سے پوچھو کہ کہیں یہ وہی بیلنس مانگنے والی صبا تو نہیں مشی نے معصومیت سے کہا جب کہ نینی حیرت سے اسے دیکھنے لگی مشی تم پاگل تو نہیں ہوگی میں تو نہیں پوچھوں گی... یار کیا ہے نینی پوچھ لو نہ کیا پتہ وہی ہو عادی جو ان کی باتیں سن رہا تھا ہونٹ دانتوں تلے دباےُ مسکراہٹ روک رہا تھا اسے مشی اس وقت ایک پاگل سی بچی لگ رہی تھی..

ٹھیک ہے پھر میں خود پوچھ لیتی ہوں.

 مشی تمہارا سچ میں عقل کا خانہ خالی ہے اگر بندے کے پاس عقل نہ ہو اور کوئ دے تو لے لینی چاہئے.. 

مجھے نہیں پتہ نینی پوچھو.... اف مشی حد ہے ویسے اگر ابھی بھی تمہیں پوچھنا ہے نہ تو سامنے بیٹھی ہے پوچھ لو وہ دونوں اس بات سے انجان تھیں کہ ان کی گفتگو سے کوئ محظوظ ہو رہا ہے عادی کے چہرے پر دلکش سی مسکراہٹ تھی...... صبا تک آواز نہیں جا رہی تھی وہ کوئ سوال دیکھنے میں مصروف تھی جب مشی نے اسے آواز دی. مس صبا میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں اور نینی نے اپنا سر پیٹ لیا کہ اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا.... جی پوچھیں؟؟؟ نینی اور عادی اپنی ہنسی کنڑول کیے ہوے تھے کیونکہ مشی نہایت احمقانہ سوال کرنے جا رہی تھی 

کیا آپ وہی صبا ہو جو آج کل سب سے بیلنس مانگتی ہے مشی نے جتنی معصومیت سے پوچھا صبا بھی مسکرا دی جب کہ مشی کی بات پر ان تینوں کے قہقہے ہی بند نہیں ہو رہے تھے اب مشی سمیت سب ہنس رہے تھے... نہیں میں وہ صبا نہیں ہوں جسے آپ ڈھونڈ رہی ہیں اس نے مسکراتے ہوےُ کہا اور چلی گئ جب کہ پیچھے وہ سب ابھی بھی ہنس رہے تھے اف مشی تمہیں کیا لگتا ہے کہ اگر وہ سچ میں وہی ہوتی تو کیا بتا دیتی... ہاں تو کون سا قیامت آگی پوچھنے سے اور ان سب کا ہنس ہنس کر برا حال ہورہا تھا.... سعد اس لڑکی کی شکل دیکھنے والی تھی جب مشی نے اس سے پوچھا جیسے وہ سچ میں وہی صبا ہو جس نے سیمی تک کو نہیں چھوڑا... اف میں مزید نہیں ہنس سکتا عادی کی آنکھوں میں پانی آگیا..... تو کیوں رو رہا ہے سعد نے بامشکل ہنسی پر قابو پاتے ہوے پوچھا ؟؟؟ تیری بِدائ ہو رہی ہے نہ اس لیے ہاہاہاہا کہ کر عادی نکل گیا اور اس کے پیچھے پھر سے ان کے قہقہے بلند ہوےُ..... آج مشی اور نینی کو سعد نے ڈراپ کیا تھا چونکہ سعد اور نینی کی بات پکی ہو چکی تھی اس لیے وہ آرام سے ایک دوسرے سے ملتے تھے اور اس دن نینی نے سعد کو ریسٹورنٹ میں اس لیے بلایا تھا کہ نینی کی پھوپھو اپنے بیٹے کے لیے نینی کو مانگ رہی تھیں جب کی نینی اور سعد کا رشتہ بچپن سے طے تھا آج کل وہ دونوں اسی وجہ سے پریشان تھے اور ان کے بیچ ہونے والی لڑائ کی وجہ بھی یہی تھی..

     *___________________________________*

ان دونوں کو چھوڑنے کے بعد سعد سیدھا عادی کی طرف چل دیا جو اس کا منتظر تھا اور سیگرٹ نوش فرمانے میں مصروف تھا آج ماما گھر نہیں تھیں تو عادی لان میں سموکنگ کر رہا تھا.. واہ واہ تو موصوف آج یہاں محفل لگاےُ ہوےُ ہیں خوش ہو یا ناخوش یہ نہیں چھوٹے گی کہ کر اس کے ہونٹوں سے سیگرٹ نکال کر اپنے ہونٹوں میں دبا لیا ہاہاہا عادی نے جان دار قہقہ لگایا عام طور پر تو لڑکوں کی جان لڑکیاں ہوتیں ہیں چونکہ میں الگ ہوں سو میری جان اس میں ہے دوسرے سیگرٹ نکالتے ہوےُ کہا سعد مسکرا دیا کیونکہ اسے بھی یہ بیماری اسی حد تک لگ چکی تھی جو کہ عادی کی دَین تھی اور وہ بھی عادی کے ساتھ خوش اور مطمئن تھا..... کچھ سوچنے کے بعد عادی نے بولنا شروع کیا پتہ ہے سعد آج مس چڑیل مجھے بہت الگ لگی اور جس معصومیت سے اس نے پوچھا اس لڑکی کی شکل دیکھنے والی تھی مانو وہ لڑکی ہی وہ صبا تھی جس نے سیمی تک کو نہ چھوڑا فضا میں دونوں کے قہقہے بلند ہوےُ... ہاں سچ میں یار اور مشی تو مجھے دنیا کی بیوقوف ترین لڑکی لگی سعد نے جواب دیا.... بلکل آج وہ بلکل معصوم سی بچی لگ رہی تھی جسے نہیں پتہ تھا کہ وہ کیا پوچھنے جا رہی ہے اور تجھے پتہ ہے یار جب وہ نینی سے ضد کر رہی تھی تو میری تو ہنسی نہ کنڑول ہو آج یہ لڑاکا نہیں بلکہ کوئ معصوم سی چھوٹی بچی لگی عادی بہت مزے سے بتا رہا تھا اور سعد بغور اس کا چہرہ پڑھ رہا تھا... کہیں محبت تو نہیں ہوگیُ مس چڑیل سے ہاہاہاہا محبت اور مجھے فار گاڈ سیک سعد تو اچھے سے جانتا ہے کہ میں محبت میں بیلیو نہیں کرتا نہ ہی کبھی مجھے ہو سکتی ہے کیونکہ محبت کے معنی لوگوں کو نہیں پتہ تو وہ ایگزیسٹ کیسے کرے گی.... عادی میں نے سنا ہے کہ جو لوگ محبت سے انکاری ہوتے ہیں نہ یہ انہی کے در پر دستک دیتی ہے.... ہوتا ہو گا لیکن میں معید ہوں میرے کیس میں ایسا نہیں ہو گا عادی نے تفاخر سے کہا ماما کی گاڑی کا ہارن سنائ دیا.. شٹ ماما آگئ اٹھ میرے ساتھ یہ سب اٹھوا اگر دیکھ لیا تو پتہ لگ جاےُ گا اپش ٹرے بھر چکا تھا عادی نے نوکر کو آواز دی کہ یہ سب لے جاےُ تو تجھے کس نے کہا تھا کہ یہاں رنگ لگا اب رنگ میں بھنگ ڈل گیا نہ وہ کیا ہے نہ کہ میں نے سوچھا کہ آج کھلے میں کرتے ہیں کہ کر عادی نے آنکھ ماری اور دونوں کے قہقہے تھے مسز احمد گاڑی سے نکل کر سیدھا ان دونوں کے پاس آگئ عادی ان کے گلے لگا کیسا ہے میرا شہزادہ. بلکل فٹ وہ دو دن بعد کسی ٹور سے آرہی تھیں سعد تم کیسے ہو میں بھی ٹھیک ہوں اور وہ تھوڑی دیر باتیں کرتے رہے پھر سعد کے گھر سے فون آگیا تو وہ معزرت کرتا ہوا چلا گیا جب کہ عادی اور اس کی ماما اپنے اپنے رومز میں چلے گۓ عادی کو اب سکون کی نیند آتی تھی کیونکہ وہ مشی کو ہرا چکا تھا لاشعوری طور پر وہ پھر مشی کے بارے میں سوچنے لگا آج میں اسے کیوں دیکھ رہا تھا اسے اپنی اس حرکت پر حیرانی تھی اور خود کو سرزنش کر کے اور مشی کے خیال کو جھٹک دیا واقعی میں یہ لڑکی بہت عجیب اور پاگل ہے عادی نے جھرجھری لی.... ایسا نہیں تھا کہ عادی نے اسے معاف کر دیا تھا کیونکہ معاف تو وہ کسی کو بھی نہیں کرتا تھا مشی کو کیسے کرتا وہ بس موقعے کی تلاش میں تھا کہ مشی نے میرے کردار کو مشکوک بنایا تھا نہ میں بھی سب کے سامنے تمہارے کردار کو مشکوک بناؤں گا جس جگہ پر مجھے چوٹ لگی تمہیں بھی سیم اسی پوائنٹ پر چوٹ پہنچاوُں گا عادی نے نفرت سے سوچا کہ بدلہ تو لوں گا اور ایسا کہ یاد کرو گی بس ایک موقع اور مس چڑیل کا کام تمام ایسے ہٹ کروں گا کہ نہ کوئ پوچھ سکے گا نہ ہی بتا سکو گی یہی سب سوچتے سوچتے عادی سو گیا....

*__________________________*

مشی اور نینی کیفے میں بیٹھی تھیں جب ارسل ان کے پاس آیا مشی مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے آؤ بیٹھ جاؤ کیا بات کرنی ہے مشی نے بیٹھنے کا اشارہ کیا.... مشی تم زرا میرے ساتھ چل سکتی ہو میں یہاں نہیں کرنا چاہتا مشی جو شاید زندگی میں پہلی بار اپنی مرضی اور دل سے کتابیں لے کر بیٹھی تھی اٹھی ٹھیک ہے چلو نینی میں زرا ابھی آتی ہوں....ٹھیک ہے... اور مشی ارسل کے ساتھ چل دی.... وہ لوگ اس سائیڈ پر آگے جہاں سٹوڈنٹس نہ ہونے کے برابر تھے.. کیا ہوا ارسل سب ٹھیک ہے مشی نے استفسار کیا؟ 

ہاں ٹھیک تو ہے مجھے تم سے بات کرنی ہے لیکن سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے کروں... ایسا کیا ہے جو آج تم اتنی تمہید باندھ رہے ہو مشی کی چھٹی حس بیدار ہوئ... وہ وہ ارسل یار بولو ورنہ میں جارہی ہوں..... میں تمہیں پسند کرتاہوں مشی!!! مشی کے بڑھتے قدم تھم گۓ اور مڑی تو آنکھوں میں بےپناہ حیرت تھی ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں.... مشی کو تو پہلے سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولے دیکھو ارسل میں نے تمہیں ہمیشہ ایک دوست کی حیثیت سے دیکھا ہے. مشی بول رہی تھی اور ارسل کے تمام اعضاء سن رہے تھے. مجھے نہیں پتہ کہ تمہیں ایسا کیوں لگا میں مانتی ہوں کہ یہ ایک ایسا جزبہ ہے جس پر آپ کا اختیار نہیں لیکن میں نے کبھی تمہارے بارے میں اس طرح سے نہیں سوچا.

ہم اچھے دوست ہیں اس کے علاوہ میرے دل میں کچھ بھی نہیں ارسل نے اپنی محبت کو بچانے کے لیے ایک کوشش کرنی چاہی مشی خدا گواہ ہے مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب کب اور کیسے ہوگیا لیکن میں نے کبھی تم پر بری نظر نہیں رکھی نہ ہی میں تمہیں فورس کر رہا ہوں


 تم وقت لے لو جتنا چاہو آرام سے سوچ لو اگر پھر بھی تم میرے لیے کچھ محسوس نہ کرو تو ہم اچھے دوست تھے اور ہمیشہ رہیں گے وہ دیوانہ وار بول رہا تھا آخری بات ارسل نے جیسے بولی تھی یہ تو اس کا دل ہی جانتا تھا مشی ٹھیک ہے کہ کر مڑ گئ اور ارسل کو لگا وہ اس کی سانسیں بھی ساتھ لے جا رہی ہے مشی جا چکی تھی اور ارسل کی دنیا ویران کر گئ تھی ارسل کو پتہ ہی نہ چلا کہ کب وہ اس نٹ کھٹ سی لڑکی کو دل دے بیٹھا اور اب اس نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اعتراف کر دیا تھا سہی کہتے ہیں کہ محبت بہت زور آور ہوتی ہے اپنی بات منوا کر ہی رہتی ہے ارسل کے ساتھ بھی یہی ہوا اور اب اسے اپنا آپ گناہ گار لگ رہا تھا ارسل کو اپنی پاؤں منوں بھاری لگ رہے تھے وہاں سے اس نے سیدھا گھر کا رخ کیا..... مشی کو ارسل سے اس چیز کی بلکل توقع نہیں تھی اسے سب کچھ بہت عجیب لگ رہا تھا وہ جلد از جلد نینی سے سب کچھ شئیر کرنا چاہتی تھی.. وہ جب کیفے میں واپس آئ تو سعد اور عادی کا اضافہ ہو چکا تھا.

 مشی نے نینی کو تقریباً کھینچتے ہوےُ چلنے کو کہا عادی بغور مشی کو دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر عجیب وغریب تاثرات تھے جنہیں نینی اور عادی دونوں نے محسوس کیا لیکن دونوں وجہ سمجھنے سے قاصر تھے عادی نے مجھے کیا کہ کر سر جھٹک دیا اور مشی نینی کو لے کر نکل گئ..... ہوسٹل پہنچ کر نینی نے مشی کو بٹھایا اب مجھے تسلی سے بتاؤ کہ کیا ہوا ہے مشی اپنی پیشانی مسل رہی تھی... نینی کین یو بیلیو دِس ڈیٹ ارسل سِیڈ ہی لوز می؟


واٹ! نینی کی حیرت کی انتہا تھی.... میرا تو دماغ ہی گھوم گیا ہے. نینی میں شاور لے کر سو جاؤں گی پھر تم سے شام میں اس بارے میں بات کروں گی. ٹھیک ہے... نینی جانتی تھی کہ وہ فوراً کسی بھی چیز کے متعلق بات نہیں کرتی بس آگاہ کر دیتی ہے.. مشی فریش ہو کر سکون کی غرض سے سو گئ جب کہ نینی اس کی باتوں پر غور کرنے لگی.

(جاری ہے)

اگلی قسط کل آئے گی 

Comments

Popular posts from this blog

نفرت سے شروع ہونے والی محبت کی داستان

  نفرت_سے_شروع_ہونے_والی _محبت_کی_داستان قسط نمبر 2 آج یونی میں عادی اور مشی کا سامنا نہیں ہوا جس وجہ سے بچت ہو گئ شام میں آج مشی اور نینی کا پلان گھومنے پھرنے کا نینی یار جلدی کرو کب سے شیشے کے سامنے کھڑی ہو ورنہ واپس آتے دیر ہو جاےُ گی مشی بس 2 منٹ دے دو نینی قد آور آئینے کے سامنے کھڑی بال برش کر رہی تھی اس نے بلیو جینز پر ریڈ شرٹ پہن رکھی تھی اور اب ریڈ لپ اسٹک لگانے میں مصروف تھی بال کیچر میں مقید تھے وہ بےحد حسین لگ رہی تھی مشی نے بلیک جینز پر وائٹ شرٹ پہن رکھی تھی لمبے بال کھول کر آگے کو ڈال رکھے تھے پنک لپ اسٹک لگاےُ وہ کوئ چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی پہلے تو وہ دونوں پیدل چلتی رہیں یار نینی گھر سے گاڑی ہی منگوا لیتی میرے مائنڈ میں نہیں رہا اچانک نینی کو شرارت سوجھی ایسا کرتے ہیں کہ پہلے چل کر پیزا کھا لیتے ہیں تب تک گاڑی بھی آ جاےُ گی مشی تھک چکی تھی اس لیے فوراً مان گئ وہ دونوں پیزا کھا رہیں تھیں جب نینی کا فون بجا ہاں ہم رائٹ سائڈ پر ہیں آ جاؤ مشی مزے سے کھا رہی تھی جب اچانک اس کی نظر سامنے سے آتے معید پر پڑی جو مسکرا کر ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہا تھا نینی ...