Skip to main content

 نفرت-سے شروع-ہونے-والی -محبت-کی-کہانی


قسط نمبر.1

ند کرداروں کے نیک نیمز

مسکان(مشی)

معید(عادی)

ثنا(نینی)

نینی میں بتا رہی ہوں کہ اگر آج بھی اس نے مجھ سے لڑائ کی تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا.

تم سے برا کوئ ہے بھی, نینی نے مسکراہٹ دباتے ہوے کہا

 مشی بس گھور کر رہ گئ.

تم بس اس کو نظر انداز کیا کرو.

 مشی کی حیرت سے آنکھیں کھل گُیں تو تمہارے خیال میں کیا میں اسے اہمیت دیتی ہوں وہ خود آتا ہے لڑنے کے لیے اب بندہ اپنا دفاع تو کرتا ہے نہ چپ تو نہی رہ سکتی کہ کر لاپرواہی سے شانے اچکاے. 

اور نینی سوچنے لگی کہ آج پھر جنگ ہونے والی ہے اف........ 

ارم, معید اور سعد ایک ساتھ آتے ہیں 

معید نے گرے جینز پر بلیک شرٹ بازو کہنیوں تک فولڈ کیے, ہلکی ہلکی شیو نکھری رنگت کو مزید نکھار رہی تھی.  بال نفاست سے کھڑے کیے,  بائیں ہاتھ پے بندھی رسٹ واچ, سن گلاسز شرٹ میں لگاےُ وہ شاندار پرسنیلیٹی کی اکاسی کر رہا تھا. آ کر نینی سے باتیں کرنے لگا

مسکان نے بھی لمبی بلیک قمیص کے ساتھ بلیک جینز پہن رکھی تھی,دوپٹہ گلے میں ڈالے, لمبے بھورے بال کھول کر دو سٹیپ آگے کو ڈال رکھے تھے, آنکھوں پر لانُر اس کی بھوری آنکھوں کو مزید گہرا بنا رہا تھا, دودھیا رنگت اس پر ہلکی پنک لپ اسٹک سے وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی. 

مشی ناک سکوڑے بیٹھی تھی 😕

ارم=

 ارے واہ نینی دیکھو تو زرا ان دونوں نے آج ایک ہی کلر کے کپڑے پہنے ہیں

اس سے پہلے کے عادی کچھ بولتا مشی بول پڑی 

میں تو یہاں کب سے موجود ہوں یہ موصوف ہی شاید مجھے کاپی کر رہے ہیں

ہیلو مادام آپ ہیں کون جو میں آپ کو کاپی کروں گا ان فیکٹ مجھے تو لگتا ہے کہ آپ مجھے فالو کر رہی ہیں

اس بات پر مشی کے تو تن بدن میں آگ لگ گیُ

یہ ہیلو جا کر کسی اور کو بولیں مجھ سے فری نہ ہوں کہ کر نینی کو آنکھ ماری 

سب اپنی ہنسی دبانے لگے

اور عادی تو یہ سوچ رہا تھا کہ وہ بول کیا گیُ ہے

اور رہی بات آپ کو فالو کرنے کی تو غالباً آپ کی یاداشت کمزور ہے تو میں یاد کروا دیتی ہوں کہ فالو تو آپ مجھے کر رہے ہیں وہ بھی پہلے دن سے اور شاید آپ خوش فہمی میں مبتلا ہیں تو اگر آپ آئینہ دیکھ لیتے تو اب تک دور ہو چکی ہوتی 

مشی کی عادت تھی وہ ایسی جگہ مارتی کی سامنے والا طیش میں آ جاتا

سمجھتی کیا ہو آخر خود کو جو منہ میں آ رہا ہے بولتی جا رہی ہو میرا ابھی پتہ نہں ہے جس دن پتہ چلا نہ اس پوری یونی میں روتی پھرو گی

اس سے پہلے کہ مشی کچھ بولتی سعد نے دونوں کو چپ کروایا 

حد ہوتی ہے ویسے سب سٹوڈنٹ دیکھ رہے ہیں اور تم دونوں بچوں کی طرح لڑ رہے ہو

مشی بل کھاتی اپنی کلاس لینے چلی گئ اور باقی سب کیفے میں بیٹھ گےُ 

آج تیسرا دن تھا اور ان کی تیسری لڑائ 

________________

یونی کا پہلا دن!!!

مشی نے نینی کی ہمراہی میں یونی کی حدود میں قدم رکھا

دونوں مطمئن انداز میں قدم اٹھا رہیں تھیں ابھی وہ چند ہی قدم چلیں تھیں کہ نینی کا فون بجنے لگا

 دو منٹ مشی میں زرا ریسیو کر لوں 

مشی زرا فاصلے پر کھڑی ہو گی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک ایک مضبوط وجود مشی سے ٹکرایا 

مشی کا منہ دوسری جانب تھا 

کیا بدتمیزی ہے یہ؟؟

مشی ماتھے پر بل ڈالے زور سے بولی 

جب کہ مقابل اپنی غلطی ماننے کی بجاےُ کہنے لگا 

کہ غلطی آپ کی ہے آپ سے کس نے کہا تھا کہ یہاں کھڑی ہوں اس کی بات  پر حیرت مشی کی آنکھیں کھل گُیں کیا یہ جگہ آپ کی ہے یا پھر یہ کہ آپ کے والد صاحب نے یہ جگہ خریدی ہے جس کے بعد سب کا داخلہ ممنوع ہو گیا ہے.اچھے سے جانتی ہوں میں آپ جیسے لڑکوں کو جو بہانے سے ایسی حرکتیں کرتے ہیں 

دیکھیں مس آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں عادی نے ضبط کرتے ہوےُ کہا

ویسے شرم تو نہیں آتی ہو گی نہ ایسی چیپ حرکتیں کرتے ہوےُ

مشی اس کی بات کاٹتے ہوےُ بولی وہ ایک بار شروع ہو جاےُ تو پھر اسے خاموش کروانا آسان نہیں وہ مشی ہی کیا جو چپ کر جاےُ 

آتے جاتے سٹوڈنٹ ان کے گرد کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے اور ایک نینی تھی جسے خبر ہی نہ تھی 

شور سن کر وہ ادھر آئ 

یااللہ اب یہ لڑکی کس سے لڑ رہی ہے کبھی جو اپنی حرکتوں سے باز آ جاےُ 

نینی کو یقین تھا کہ یہ مشی ہی ہو گی

بس بہت ہو گا میں کب سے آپ کی فضول بکواس برداشت کر رہا ہوں اب اگر مزید ایک لفظ بھی بولا تو اچھا نہیں ہو گا آپ کے لیے 

اس سے پہلے ک مشی کچھ بولتی نینی نے اسے خاموش کروایا اور ہاتھ پکڑ کر لے گئ 

جاتے جاتے مشی اسے منہ چڑھایا جس سے وہ مزید تپ گیا

عادی, سعد میں آپ دونوں سے بعد میں ملتی ہوں نینی نے جاتے ہوےُ ہانک لگائ 

                           ********

مشی نے نینی کو ساری بات بتایُ 

ہاں عادی کو سوری کر ک بات ختم کرنی چاہیے تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی سے معافی نہیں مانگتے 

عجیب ہٹ دھرم ہے مشی ناک سکوڑتے ہوےُ بولی 

ویسے تم کیسے جانتی ہو اسے؟؟؟ 

مشی اب اطمینان سے ٹانگ پے ٹانگ چڑھاےُ بیٹھی تھی 

دراصل وہ سعد کا بیسٹ فرینڈ ہے 

اووہ ٹھیک 

کچھ دیر گزار کر وہ دونوں ہوسٹل آ گیُں

                        *******

وہ دونوں ایک ہی روم میں رہ رہی تھیں جس میں دو سنگل بیڈ,اٹیچ باتھ, ایک سٹڈی ٹیبل اور دروازے کے بلکل سامنے ایک کھڑکی جو باہر کو کھلتی تھی.چیزیں سمیٹ کر وہ دونوں سو گیُں

                         *******

مسکان کا تعلق ملتان شہر سے تھا وہ اپنے بہن بھائ سے اور خاندان کے سب کزنز میں سب سے چھوٹی ہونے کے باعث سب کی لاڈلی تھی

سب سے بڑی بہن بینک میں جاب کرتی اور بھائ انجینر. اس کے پاپا ایک بزنس مین تھے

                             ********

معید اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھا اس کے پاپا ڈاکڑ تھے جو زیادہ تر ملک سے باہر رہتے ماما اپنا بزنس سمبھالے ہوے تھیں اکلوتا ہونے کے باعث معید بچپن سے ہی لاڈ اٹھواتا آیا تھا دوسرا اپنی پرسنیلیٹی کی وجہ سے اس نے خود کو مغرور بنا لیا تھا جو اپنے سامنے کسی کو ٹکنے نہیں دیتا تھا آج یہ چھوٹی سی لڑکی اس کے وقار کی دھجیاں اڑا گئ تھی وہ کیسے یہ برداشت کر لیتا

سعد کافی دیر اس کو سمجھاتا رہا کہ وہ اس بات کو چھوڑ دے

یار تجھتے تو پتہ ہے نہ کہ یہاں روز ایسا ہوتا ہے دفع کر 

عادی سیگرٹ پے سیگرٹ پی رہا تھا جو بہت عام سی بات تھی 

اس ملتانی بیوٹی کو بھی دیکھ لوں گا عادی ہنکار بھر کر بیڈ پر لیٹ گیا.....

ایف.ایس.سی کے بعد نینی کی فیملی لاہور شفٹ ہو گئ جس وجہ سے مشی نے بھی لاہور میں نینی کے ساتھ ایڈمیشن لے لیا

مشی DPT اور نینی BBA کی سٹوڈنٹ تھیں اور اب مشی کے لیے نینی بھی اس کے ساتھ ہوسٹل میں رہ رہی تھی کیونکہ یہ مشی کی ضد تھی کہ وہ ہاسٹل میں رہے گی نینی کے گھر نہیں 

                         *********

آرام کرنے کے بعد وہ دونوں کافی پینے لگیں 

اچانک نینی کو کچھ یاد آیا

مشی تمہیں وہ کڑکا یاد ہے جس کے پاس تم میرا پروپوزل لے کر گیُں تھیں  

اووو ہاں وہ نمبر والا نہ

ہاں وہی

مشی اور نینی ہوٹل میں بیٹھی تھیں وہ آڈر دے چکی تھیں 

مشی وہ لڑکا کیسا ہے جو یہاں دیکھ رہا ہے 

کہتی ہو تو پروپوزل لے جاؤ 

نہیں نہیں مشی 

مطلب پھر تو مجھے اسے اٹھا کے لانا پڑے گا چلو کوئ نہیں تم دیکھتی جاؤ میں کیا کرتی ہوں 

مشی اٹھ کر اس سمت چل دی اور نینی مزے سے ہونے والی کاروائ کو دیکھنے لگی 

وہ جانتی تھی کہ مشی کچھ الٹا کرے گی لیکن یہ ان کی عادت تھی باہر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنا ویسے بھی وہ دونوں بور ہو رہی تھی

مشی اس لڑکے کے سر پر جا کھڑی ہو گئ 

لڑکے نے اس چھوٹی سی خوبصورت سی لڑکی کا جائزہ لیا جو اس وقت جینز اور چپک والی شرٹ میں ملبوس تھی

مشی نے مسکرا کر لڑکے کی طرف دیکھا اور بولنا شروع کیا

میں اپنی فرینڈ کا پروپوزل لے کر آئ ہوں 

جی!!!  لڑکے کی حیرت سے آنکھیں کھل گُیں 

سوری

اسے سمجھ نہ آیا کہ آگے سے کیا بولے 

اووو نو اس کا مطلب مجھے آپ کو اٹھا کر لے جانا پڑے گا

لڑکے کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ اچانک ہو کیا رہا ہے 

جب کہ مشی ہنسی ضبط کیےُ بول رہی تھی اور اُدھر نینی کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا 

مشی نے غور سے لڑکے کو دیکھا جس سے وہ مزید پزل ہو گیا

ویسے رہنے دو میں یہ رشتہ ختم کرتی ہوں 

ضبط کے باوجود مشی کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئ اور وہ واپس بھاگ گئ 

لڑکا نا سمجھی کر عالم میں اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ آخر یہ سب تھا کیا 

کیسا تھا پھر 

مشی نے ہنستے ہوےُ پوچھا

زبردست 

نینی تو ہنس ہنس کر پاگل ہو رہی تھی 

اب یقیناً تمہارا کھانا ہضم ہو جاے گا 

بلکل. مشی نے مسکراتے ہوے جواب دیا   

مشی حال میں واپس آئ مسلسل ہنسنے کی وجہ سے اس کی آنکھ نم ہو گئ تھی

اچھا نینی تمہیں وہ یاد ہے بس والا 

اور نینی کو تو سوچنے کی بھی ضرورت نہ پڑی وہ تو ناقابلِ فراموش ہے مشی 

مشی ایک بار پھر ماضی میں پہنچ گئ 

وہ دونوں کالج بس کے دروازے میں بیٹھی تھیں

سیمینار سے کالج وہ بس میں جانا چاہتی تھیں اس لیے جگہ نہ ہونے کے بعد بھی وہ بس میں تھیں یہ ضد بھی مشی کی تھی جو ہمیشہ الٹی حرکتیں کرتی رہتی

ٹریفک کی وجہ سے بس رکی تو ایک لڑکا ان کی تصویر بنانے لگا

مشی وہ دیکھ ہماری پکچر بنا رہا ہے 

مشی کو تو غصہ چڑھ گیا

اس کی تو اب خیر نہیں 

بس چلی تو وہ بائیک لر کر ان کے ساستھ چلنے لگا 

دونوں نے اپنا چہرہ کور کر لیا تھا 

جیسے ہی بس کالج کے باہر رکی مشی اتر کر ان کے پاس گئ جو اب ماشاللہ کی ہانک لگا رہے تھے 

مشی کو تو آگ لگ گئ اور بولی

تمہارے گھر میں ماں بہنیں نہیں ہے کیا؟؟

بالکل ہیں! 

تو جا کر ان کو بولو یہ سب

ہیں تو لیکن وہ آپ جیسی نہیں نہ 

اس کی ڈھٹائ پر مشی کا منہ کھل گیا

روکو تمہیں تو میں بتاتی ہوں زرا کہ کر وہ شوز کھولنے لگی 

مشی کر ارادے دیکھ کر نینی فوراً اس کی بازو پکڑ کر لے گئ اور مجبوراً مشی کو لعنت دینے پر ہی اکتفا کرنا پڑا 

نینی نہ روکتی تو مشی غالباً سڑک پر ہی ان کی پٹائ شروع کر دیتی 

اندر جا کر وہ خود بھی ہنستی رہیں اور دوسروں کو بھی ساتھ ہنساتی رہیں 

بس مشی اب اور کوئ بات یاد نہیں کرنی میرے پیٹ میں درد شروع ہو گیا ہے 

مشی بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی لائٹ آف کر  

کے وہ دونوں سونے کے لیے لیٹ گیں(جاری ہے اگلی قسط کل آئے گی)




Comments

Popular posts from this blog

نفرت-سے شروع-ہونے-والی -محبت-کی-داستان

 نفرت_سے_شروع_ہونے_والی_محبت_کی_داستان حمنہ_تنویر  قسط نمبر 3 آج مشی کی کلاس جلدی تھی اس لیے وہ یونی آتے ہی فوراً کلاس لینے چلی گئ جاتے ہوےُ اسے عادی نظر آیا جو اسے ہی غالباً غصے سے گھور رہا تھا مشی بھی گھوری سے نوازتی مسکراتی نکل گئ... عادی آج بہت اچھے موڈ میں تھا کیونکہ اس کا کام مکمل ہو چکا تھا اور آج وہ پانی سے بھرے غبارے لیے گھوم رہا تھا جس کا کبھی کوئ شکار ہوتا تو کبھی کوئ اور اب سعد کی باری تھی سعد یہ سیدھا تمہارے منہ پر میری جان 😘 عادی دیکھ نہ کر میں بتا رہا ہوں کسی کے لگ جاےُ گا لیکن اسے کہاں پرواہ تھی 😅 اور سعد کو اپنی کپڑوں کی ٹینشن تھی جیسے ہی عادی نے پانی سے بھرا غبارہ پھینکا وہ سامنے سے آتی مشی کو جا لگا اوو شٹ!!!!! اس چڑیل کو بھی ابھی آنا تھا عادی نے دانتوں تلے زبان دبایُ کہ اب ایک نیا محاذ کھلنے والا تھا ان دونوں کے بیچ وہ جنگ کے لیے خود کو تیار کرنے لگا جیسے ہی مشی کے غبارہ لگا وہ تلملاتی ہوئ عادی کے پاس آئ. آخر آپ کا مسلئہ کیا ہے میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟ عادی بالوں میں لاپرواہی سے ہاتھ پھیرتا اِدھر اُدھر دیکھنے لگا جیسے وہ کسی اور سے بات کر رہی ہو. مشی م...