نفرت_سے_شروع_ہونے_والی _محبت_کی_داستان
قسط نمبر 2
آج یونی میں عادی اور مشی کا سامنا نہیں ہوا جس وجہ سے بچت ہو گئ
شام میں آج مشی اور نینی کا پلان گھومنے پھرنے کا
نینی یار جلدی کرو کب سے شیشے کے سامنے کھڑی ہو ورنہ واپس آتے دیر ہو جاےُ گی
مشی بس 2 منٹ دے دو
نینی قد آور آئینے کے سامنے کھڑی بال برش کر رہی تھی اس نے بلیو جینز پر ریڈ شرٹ پہن رکھی تھی اور اب ریڈ لپ اسٹک لگانے میں مصروف تھی بال کیچر میں مقید تھے وہ بےحد حسین لگ رہی تھی
مشی نے بلیک جینز پر وائٹ شرٹ پہن رکھی تھی لمبے بال کھول کر آگے کو ڈال رکھے تھے پنک لپ اسٹک لگاےُ وہ کوئ چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی
پہلے تو وہ دونوں پیدل چلتی رہیں
یار نینی گھر سے گاڑی ہی منگوا لیتی
میرے مائنڈ میں نہیں رہا
اچانک نینی کو شرارت سوجھی
ایسا کرتے ہیں کہ پہلے چل کر پیزا کھا لیتے ہیں تب تک گاڑی بھی آ جاےُ گی
مشی تھک چکی تھی اس لیے فوراً مان گئ
وہ دونوں پیزا کھا رہیں تھیں جب نینی کا فون بجا
ہاں ہم رائٹ سائڈ پر ہیں آ جاؤ
مشی مزے سے کھا رہی تھی جب اچانک اس کی نظر سامنے سے آتے معید پر پڑی جو مسکرا کر ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہا تھا
نینی یہ کیا تم نے اسے کیوں بلایا ہے؟
یار تم نے گاڑی کا بولا تھا اس سروس میں ڈرایئور بھی مل رہے تھے اس لیے مشی نے معصوم سی شکل بنا کر کہا
مشی چپ رہی
اور ہاں مشی پلیز تم خود کو کنڑول میں رکھنا مجھے سعد سے ضروری بات کرنی ہے
مشی جانتی تھی کہ کیا بات کرنی ہے اس لیے اس کی بات مان لی
معید نے بلیک جینز پر بلیک شرٹ اور اس کے اوپر سکن کلر کا کوٹ پہن رکھا تھا بائیں ہاتھ میں واچ پہنے موبائل گھماتا ہوا وہ کوئ ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا آ کر عین مشی کے سامنے بیٹھ گیا
وہ ٹانگ پے ٹانگ چڑھاےُ مطمئن سا نظر آ رہا تھا
وہ مشی کو تنگ کرنے کے ارادے سے آیا تھاآپ کافی مطمئن لگ رہی ہیں
جی بالکل
میری موجودگی سے
مشی نے پوری بات سنے بغیر کہا
عادی مسکرانے لگا
مشی چپ کر کے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی
جب کہ وہ اپنے فون میں مصروف ہو گیا
مشی کو سامنے بیٹھا وہ شخص زہر لگ رہا تھا وہ عادی کو غصے سے گھورنے لگی
عادی نے منہ اوپر کر کے کہا
کیا مجھے نظر لگانے کا ارادہ ہے اب تو لگتا ہے کہ مجھے نظر کا ٹیکہ لگوا کر آپ کے سامنے آنا چاہئے
عادی کی مسکراہٹ مشی کو جلا گیُ
آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ ایسے ویسے حسین ہیں کہ میں آپ کو نظر لگاؤں گی اور ویسے بھی آپ جیسے لوگوں کو نظر نہیں لگ سکتی
مشی نے بھرپور اطمینان سے کہا
اچھا تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ پھر آپ حسن کی دیوی ہیں.ہاں؟؟
بےشک میں خوبصورت ہوں لیکن کبھی غرور نہیں کیا اس نے ایک ادا سے شانے اچکاےُ
جب کہ عادی اس بات سے جل گیا وہ اسے زچ کرنے آیا تھا اور اب خود ہونے لگا تھا
یہ بات آپ غور سے سن لیں کہ میں آپ کو یہاں وارن کرنے آیا ہوں کہ اگر آئیندہ آپ نے میرے بارے میں کچھ نھی بولا تو ایسا سبق سکھاوُں گا پھر روتی پھرتی نظر آئیں گی آپ
اوووو ریُیلی میں تو ڈر گئ
مشی نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی پھر ہنسنے لگی
جب کہ عادی کو وہ زہر لگ رہی تھی ضبط کر کے بیٹھا رہا
آپ کو جو کرنا ہے کریں ڈرتی نہیں میں آپ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ بھی کریں اور میں خاموش رہوں
میں مسکان حیدر ہوں مجھے کنٹرول کرنے والا کوئ پیدا نہیں ہوا
گریٹ! تو آپ مردوں سے مقابلہ کریں گئ آئ لائیک اٹ
اپنی چھچھوری حرکتیں اپنے پاس رکھیں آئ ڈونٹ نیڈ یور کومپلیمینٹ
یہ پبلک پلیس ہے ورنہ آپ کو اچھے سے سمجھاتا ک معید احمد کون ہے
عادی غصے سے بولا
کیوں کہ عقل تو آپ میں ویسے بھی نہیں ہے تو کیسے سمجھ آےُ گا
اس نے شرارتی مسکراہٹ مشی کی طرف اچھالی
اس بات پے تو مشی تپ گئ
زور سے ٹیبل پر ہاتھ مر کر کھڑی ہوئ اور اونچی آواز میں بولی
بس بہت سن لی آپ کی بکواس اب ایک لفظ برداشت نہیں کروں گی
مشی کیا ہو گیا ہے یار
لوگ انہیں دیکھ رہے تھے
لیکن وہ نینی کی بات کا جاوب دئیے بغیر تن فن کرتی باہر نکل گئ
مشی تپ چکی تھی اور عادی مسکرا رہا تھا کیونکہ وہ یہی چاہتا تھا وہ مطمئن سا ہو گیا ایک طرف مشی کی باتیں طیش دلاتی تو دوسری طرف لطف بھی دیتی تھیں نینی اور مشی فوراً ہوسٹل کے لیے نکل گئیں جب کہ عادی سعد کو اپنے گھر لے گیا
*---------*
مشی پڑھائ میں اچھی نہیں تھی اگر محنت کرتی تو اچھے نمبر لے لیتی ورنہ نہیں
آج بھی لیکچر لینے کو اس کا دل نہیں کر رہا تھا اس نے چیونگم کھول کر کھانی شروع کر دی کیونکہ سر عامر اسے کچھ نہیں کہتے تھے
مشی نے جیسے ہی چیونگم کا غبارہ بنایا سر اسی وقت مڑے اور اسے دیکھ کر ہنسنے لگے ساری کلاس پوچھنے لگی کہ سر کیا ہوا
کچھ نہیں
مشی بار بار مسکرا رہی تھی اسے ایسے دیکھ کر سر سے ہنسی کنڑول کرنا مشکل ہو جاتا
مشی آپ باہر چلی جائیں
لیکن کیوں سر؟ معصومیت سے پوچھا
بتاؤں کہ کیوں
جی سر ایسے تو میں نہیں جاؤں گی وہ بھی مشی تھی اور اسے پتہ تھا کہ سر وجہ نہیں بتائیں گے اور وہی ہوا
بس آپ چلی جائیں آپ کی وجہ سے کلاس ڈسڑب ہو رہی ہے
لیکن میں ایسے کیوں جاؤں جب کچھ کیا ہی نہیں میں تو نہیں جاؤں گی
آخر سر کو ہتھیار ڈالنے پڑے
ٹھیک ہے لیکن اب غور سے صرف لیکچر سنیں گئ
اوکے سر مشی مسرور سی مسکرا دی
*------------*
ارسل مشی کا کلاس فیلو تھا وہ کافی ذہین تھا جس وجہ سے مشی کی اس کے ساتھ اچھی دوستی ہو گئ تھی
وہ تھا بھی ایسا معصوم سا
مشی کی تمام حرکتوں کے باوجود اسکی عزت کرتا کبھی نظر اٹھا کر اس سے بات نہ کرتا
مشی نے اسے اپنے گروپ میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا جس پر ارسل کو کوئ اعتراض نہیں تھا
**----------**
کلاس لینے کے بعد عادی کے علاوہ باقی سب کیفے میں موجود تھے
سب خوش تھے کہ آج ان دونوں کی جنگ نہیں ہوئ تھی لیکن یہ اطمینان کچھ دیر کے لیے ہی تھا
مشی کیلا کھا رہی تھی جب عادی اس کے پیچھے سے آتا ہوا نظر آیا
ارم نے فوراً مشی سے کہا کہ تمہارے لیے اگلے ایک منٹ کے اندر اندر ایک Dare ہے مشی نے فوراً ہامی بھری
یہ چھلکا اپنی پیچھے پھینکنا ہے جلدی
مشی نے فوراً چھلکا پیچھے پھینک دیا بنا دیکھے
اور وہ سیدھا فون پر بات کرتے معید کے منہ پر گیا
مشی نے مڑ کر دیکھا تو اس کے قہقے بلند ہوےُ کیفے میں بیٹھے سب لوگوں نے لطف لیا
اور معید کا مرے غصے اور ضنط کے چہرہ سرخ ہو گیا
مشی عادی کو دیکھ کے ہنسی کنڑول کرتی لیکن پھر بےقابو ہو جاتی
عادی دھاڑتا ہوا مشی کے پاس گیا
تمیز نام کی بھی کوئ چیز ہوتی ہے لیکن آپ کو تو شاید چھو کر بھی نہیں گزری
آج مشی کو غصہ نہیں آیا کیونکہ اسکا موڈ اچھا تھا
جتنی بھی گزری ہے نہ کم سے کم آپ سے زیادہ ہی ہے ارم کو آنکھ مرتے ہوے بولی
سب ان کی لڑائ کو انجواے کر رہے تھے
اس سے پہلے کہ عادی کچھ بولتا چیکنگ کی ٹیم وہاں آ گئ اور اسے مجبوراً خاموش ہونا پڑا
عادی مشی کو غصے سے گھور رہا تھا اور وہ مزید اسے چڑا رہی تھی
دو منٹ رکنے کے بعد مشی وہاں سے بھاگ گئ
تمہیں تو دعد میں دیکھ لو گا عادی بڑبڑایا
**-----****
مشی کے کہنے پر ارسل کو گروپ میں شامل کر لیا گیا تھا جسے سب نے خوشدلی سے ویلکم کیا سواےُ عادی کے
*****
مشی کا کافی وقت ارسل کے ساتھ گزرنے لگا تھا کیونکہ وہ سٹڈی میں مشی کی ہیلپ کر رہا تھا
اس دن کی لڑائ کے بعد سے لے کر اب تک دونوں کا سامنا نہیں ہوا تھا
معید اپنی اسائمٹ بنانے میں مصروف تھا لیکن وہ اپنی تزلیل بھولا نہیں تھا وہ اپنا کام ختم ہونے کے انتظار میں تھا کیوں کہ معاف تو وہ کسی کو نہیں کرتا تھا
آج بھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھا سعد کے ساتھ سموکنگ کر رہا تھا
عادی کو شروع سے بہت زیادہ سموکنگ کی عادت تھی اور یہ عادت اس نے سعد کو بھی ڈال دی تھی
عادی کا روم نفاست سے سجا ہوا تھا دروازے کے سامنے بالکونی تھی کمرے کے ایک طرف بیڈ تھا جس کے قدموں میں ایک چھوٹا مگر خوبصورت سا قالین بچھا تھا بیڈ کے ساتھ صوفے تھے اور ان کے سامنے چینجینگ روم تھا جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی
ایش ٹرے بھر چکا تھا
سعد مجھے اس چڑیل مشی کا کچھ کرنا ہے میں قطعاً اسے اپنی بےعزتی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا
یار کیا ہو جاتا اگر پہلے دن تو اسے سوری بول دیتا تو یہ سب نہ چل رہا ہوتا
عادی نے کش لگاتے ہوےُ قہقہ لگایا
تو اچھے سے جانتا ہے مجھے
میں معید احمد اور اس لڑکی کو سوری بولتا نیور ساری زندگی بھی یہ جنگیں جاری رکھنی پڑی نہ تو رکھوں گا لیکن سوری بھول جا
ٹھیک ہے پھر تو سوچ لے کیا کرنا ہے میں تو ہمیشہ تیرے ساتھ ہوں
یر مجھے سمجھ نہیں آتی عجیب لڑکی ہے مجھ سے ڈرنا تو دور مجھ سے میرے ہی ٹون میں بات کرتی ہے
عادی نے دوسری سیگرٹ سلگاتے ہوےُ کہا
سیدھا کہ نہ کے تیرے ٹکر کی ہے
عادی کا قہقہ بلند ہوا
ہاں ماننا تو پڑے گا ہے ہمت والی اور باتیں ایسی کرتی ہے کہ بعض اوقات مجھے اپنی بے عزتی پے ہنسی آ جاتی ہے
عادی نے مسکراتے ہوےُ کہا
اس کی انہیں حرکتوں کی وجہ سے سب اسے پسند کرتے ہیں کہ سب کو ہنساتی رہتی ہے
یہ سب باتیں عادی صرف سعد سے ہی کر سکتا ہے کیونکہ وہ اسکا بیسٹ فرینڈ ہے اور وہ اس سے کچھ نہیں چھپاتا تھا
کچھ دیر وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے
-----------۔ -----------
شام میں آج پھر نینی اور مشی باہر گئیں آج نینی انہیں بلانے کا سوچ بھی نیں سکتی تھی اس دن کے ڈرامے کے بعد
یار نینی میری طبیعت بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے
کیا ہوا مشی؟؟ نینی پریشان ہو گئ جب سے لاہور آےُ ہیں ایک بار بھی کسی کو تنگ نہیں کیا
ہاہاہاہا اچھا پھر ٹھیک ہے تمہارے دماغ میں کچھ ہے مشی کی شکل بتا رہی تھی کہ اس کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے
بلکل... مشی نے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوےُ کہا چلو کچھ کھانے کے لیے چلتے ہیں لیکن اگر میں جیت گئ تو بل تم دو گی بولو منظو ہے نینی مشی نے ہاتھ آگے کیا
نینی نے کچھ سوچا پھر چلو ٹھیک ہے اچھا
آڈر لکھوانے کے بعد مشی اپنا شکار ڈھونڈنے لگی اور اسے ایک کپل نظر آیا
آہاں مل گیا وہ دیکھ نینی مجھے وہ کپل بلکل اچھا نہیں لگ رہا مشی کی بات سمجھتے ہوےُ نینی نے کہا کہ پھر جا کر اپنا کام کر کے دکھاؤ
مشی نے جینز پر بلیو ٹی شرٹ پہن رکھی تھی بال کیچر میں قید تھے. وہ اذلی اعتماد اور چہرے پر معصومیت سجاےُ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کپل کے پاس گئ اور سلام کیا دونوں نے حیران ہوتے سلام کا جواب دیا اور پھر لڑکی سے براہ راست مخاطب ہوئ جن کی نینی سمجھ رہی تھی کہ وہ لڑکے سے مخاطب ہو گئ اچھا تو آج اس نے چینجینگ کی ہیں انڑرسٹنگ
کیسی ہیں آپ ؟ سوری میں نے آپ کو پہچانا نہیں.... ارے آپ نے پہچانا نہیں مجھے کل جب آپ بھائ سے ملنے آئیں تھیں تو بھائ نے مجھ سے ملوایا تھا آپ کو اتنی جلدی بھول بھی گئیں ؟؟؟؟ کون سا بھائ کب ملیں آپ مجھ سے یہ سب کیا کہ رہی میں نہیں جانتی آپ کو........ مشی اثر لیے بغیر بولی یہ آپ کے بھائ ہیں نہ اسی لیے آپ انکار کر رہیں ہیں نہ
اووو ہیلو میں ان کا بی.ایف ہوں اور یہ لڑکی کیا کہ رہی ہے سب بتاؤ مجھے وہ لڑکا لڑکی پر شروع ہو گیا...... میں سچ کہ رہی ہوں یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے..... مشی مزے سے دونوں کو دیکھ رہی تھی جب لڑکے نے اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ سچ کیا ہے مشی نے معصوم سی شکل بنا کر کہا کہ بھائ مجھے کیا ضرورت ہے جھوٹ بولنے کی اگر آپ کو نہیں یقین کرنا تو مت کریں میں جا رہی ہو اور ہنستی ہوئ واپس مڑ گئ کیونکہ اس کا کام تو ہو چکا تھا... اب بول نینی وہ جو انجواےُ کرنے میں مصروف تھی ہنستے ہوے مشی کو داد دی اتنی دیر میں لڑکا اٹھ کر چلا گیا وہ لڑکی بھی بھاگتی گئ وہ ایک عدد ڈیٹ خراب کر چکی تھی اور اب سکون سے کھانا کھاتی..... مشی تم نے گھر فون نہیں کیا؟؟؟ نینی نے کھاتے ہوےُ پوچھا.. اووہ شٹ میں دو دن سے سوچ رہی تھی کہ فون کروں آج کروں گی... ہاں کر لینا آنٹی پریشان ہو رہی تھیں مشی نے سر ہلانے پر اکتفا کیا
*******
رات میں مشی نے لیپ ٹاپ اٹھایا اور ویڈیو کال پر گھر والوں سے بات کرنے لگی.. جی ماما آپ میری فکر نہ کریں میں بہت خوش ہوں اور بلکل بھی اداس نہیں ہوئ. ابھی آج تو اتنا زبردست کارنامہ سرانجام دے کر آئ ہوں مشی نے دل میں سوچا.. کہاں گم ہو گئیں؟ کہیں نہیں بس آپ نے اب کچھ نہیں کہنا بابا بتا رہے تھے مجھے کہ کیسے آپ نے اپنہ ساتھ ساتھ باقی سب کو بھی ٹینشن میں رکھا ہوا ہے... حرکتیں بھی تو بچوں والی ہیں نہ تمہاری پھر کیسے ٹینشن نہ ہو اف نینی تم ہی آ کر ماما کو سمجھاؤ مشی نے لیپ ٹاپ نینی کو دیا اور خود سلیپر پہننے لگی. نینی نے آنکھ کے اشارے سے پوچھا کہ کہاں؟ کافی پیو گی؟ نینی نے سر ہلا دیا اور بات کرنے لگی جب کہ مشی کافی بنانے چلی گئ... آنٹی آپ اس کی ٹینشن نہ لیں میں ہوں نہ اس کے ساتھ سنبھال لوں گی اسے.وہ تو ٹھیک ہے بیٹا لہکن آپ کو تو پتہ ہی ہے نہ کہ زرا سیریس نہیں ہے بچوں والی حرکتیں ہیں. وہ بھی ٹھیک ہو جائیں گی لیکن آپ اب اسے بار بار فورس نہ کریں آپ کو پتہ ہے کہ پھر وہ چڑ جاتی ہے اور میری بھی نہیں سنتی ویسے بھی اس کا ہیاں رہنے میں فائدہ سب سے دور ہوگی تو زمہ دار بھی ہو گی اب تو ماشاللہ کافی بھی بنانے لگی ہے ماما اور نینی دونوں مسکرا دیں. چلو ٹھیک ہے آپ کی وجہ سے مجھے تسلی ہے اپنا اور اسکا خیال رکھنا اوکے آنٹی خدا حافظ اور کال کٹ کر دی اتنی دیر میں مشی نے کافی کا کپ تھماتے ہوےُ پوچھا ہوگی بات؟ ہاں اب وہ ٹینشن نہیں لیں گیں. گڈ کہ کر مشی کافی کے سپ لینے لگی
مشی کے لاہور جانے پر اس کی ماما رضا مند نہیں تھی وہ کہیتں سب کے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے اور میں اسے اکیلے جانے کی اجازت نہیں دوں گی لیکن مشی بضد تھی کہ لاہور ہی پڑھے گی اب اس کی ضد کے آگے ماما کی بھی نہیں چلی تھی ۔
( جاری ہے )اگلی قسط کل اسی ٹائم آئے گئ۔
To be Continue...
Comments
Post a Comment