Skip to main content

نفرت سے شروع ہونے والی محبت کی داستان

  حمنہ_تنویر 

 قسط نمبر 4 

 شام میں مشی اور نینی پارک میں بیٹھی تھیں جب مشی نے اسے تفصیل سے ان دونوں کے بیچ ہونے والی گفتگو بتائ. ہاں تو ٹھیک ہے نہ اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے نینی نے سوچتے ہوےُ کہا اس نے وقت دیا ہے تو تم بھی لے لو پھر اگر جواب پوزیٹیو ہو تو تم اس سے کہنا کہ اگر وہ سچ میں محبت کرتا ہے تو تمہارے گھر پروپوزل بھیجے..... سہی کہ رہی ہو نینی شادی تو کرنی ہی ہے تو پھر اگر ارسل سے ہوجاےُ تو کوئ مسئلہ نہیں.. نینی مسکرا دی کہ اب مشی ریلیکس تھی. تھینک یو نینی.... اچھا بس یہ ایموشنل سِین چھوڑو اور کچھ مزے کا کرتے ہیں نینی کی شکل دیکھ کر مشی سمجھ گئ تھی اور ایک شرارتی مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کر لیا میرے دماغ میں ایک فٹ قسم کا آئیڈیا آیا ہے نینو ایسے معملات میں مشی کا دماغ روشنی کی رفتار سے بھی تیز چلتا... اس نے نینی کو ساری بات سمجھائ ہاےُ مشی کمال ہے نینی نے مسکراتے ہوےُ کہا وہ دونوں ایسی ہی تھیں زیادہ دیر سیریس نہیں رہ سکتی تھیں...وہ ہوسٹل سے زیادہ دور نہیں تھیں اس لیے جلدی سے اپنے پلان کے مطابق جو چیزیں درکار تھیں وہ جمع کر کے واپس پارک میں آ گئیں. پارک لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور مشی اپنا شکار ڈھونڈ رہی تھی.... سعد نے نینی کے موبائل میں ٹریسر لگوا رکھا تھا تاکہ وہ کبھی بھی اس کی لوکیشن پر پہنچ سکے مشکل وقت میں... سعد حیران ہوا کہ آخر وہ کر کیا رہی ہے پہلے ہاسٹل سے پارک پھر ہاسٹل گئ اور اب پھر پارک میں موجود تھیں.. سعد نے عادی کو بتایا اور ساتھ چلنے کو کہا کہ دیکھیں تو سہی آخر کر کیا رہیں ہیں دونوں...... عادی نے رش ڈرائیونگ کی اور اگلے پانچ منٹ میں وہ اس پارک میں موجود تھے... اور ان دونوں کو دیکھنے لگے کہ وہ کہاں ہیں.. مشی کو اپنا شکار مل چکا تھا وہ کوئ سترہ اٹھارہ سال کی معصوم اور ڈرپوک سی لڑکی تھی جسے چھوٹا سا بچہ بلی سے ڈرا رہا تھا... یہ سب دیکھ کر مشی نے نینی سے کہا کہ یہ اس کام کے لیے یہ بلکل ٹھیک رہے گی... مشی چہرے پر مسکراہٹ سجاےُ اس لڑکی کے پاس گئ اور اس سے باتیں شروع کر دیں کہ میں ملتان سے ہوں مجھے لاہور کے بارے میں بتائیں وہ لڑکی پُرجوش ہو کر اپنے شہر کی خاص چیزیں بتانے لگی اور مشی ایسے سن رہی تھی جیسے اسے سچ میں کچھ نہ پتہ ہو وہ اتنی اچھی ایکٹنگ کرتی کہ کوئ پکڑ ہی نہ پاتا..... سعد وہ دیکھ نینی اور نینی مزے سے مشی کو دیکھ رہی تھی چھپ کر. اُن دونوں نے اسکی نظروں کا تعاقب کیا تو مشی نظر آئ آخر یہ دونوں کر کیا رہی ہیں عادی نے کہا... پتہ نہیں دیکھتے ہیں وہ دونوں نینی کے پیچھے چھپ گۓ.... مشی نے لڑکی کی تعریف کی کہ لاہور کے لوگ بہت اچھے ہیں اور اس کا شکریہ ادا کرنے لگی. یہ تحفہ سمجھ کر آپ میری طرف سے رکھ لیں مشی نے باکس اس کی جانب بڑھایا لیکن اس نے انکار کیا لیکن مشی کے اصرار پر دل سے قبول کیا... مشی فاتحانہ مسکراہٹ لیے مڑی اور نینی کے ساتھ آ کر چھپ گئ عادی اور سعد ناسمجھی کے عالم میں ساری کاروائ دیکھ رہے تھے....جیسے ہی لڑکی نے باکس کھولا اس میں ایک سطر تھی جس پر لکھا تھا کہ اس باکس کو ہاتھ نہ لگائیں اسمیں بامب ہے جس کی ٹائمینگ اس کو کھولنے سے سٹارٹ ہو جاےُ گی اس میں سے گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز آ رہی تھی جسے وہ بامب کی ٹک ٹک کی آواز سمجھی اور چلانے لگی کہ یہاں بامب ہے بھاگو سب... لوگ جو انجواےُ کر رہے تھے اسے سنتے ہی بھاگنے اور چیخنے لگے پارک میں افراتفری مچ گئ سب اِدھر سے اُدھر بھاگنے لگے جب کہ وہ دونوں پاگلوں کی طرح ہنس رہیں تھیں عادی اور سعد کو جب سمجھ میں آیا تو ان کے بھی قہقہے رکنے کا نام نہ لیں... اُن دونوں کو بھی شرارت سوجھی... پارک خالی ہو رہا تھا وہ دونوں ہنسی سے بےحال ہوتیں مشی اور نینی کے پیچھے گےُ منہ میں رومال رکھے کڑک آواز میں بولے.... محترمہ آپ دونوں ہاتھ اوپر کر لیں آپ کی کاروائ دیکھی جا چکی ہے ڈر کے مارے ان دونوں نے منہ بھی نہ موڑا... مشی اب کیا کریں نینی پریشانی سے بولی... نینی کچھ سوچنے تو دو مجھے... سعد اور عادی سے ہنسی کنڑول نہ ہوئ تو رومال نکال کر بولے اور آپ دونوں کو داد دی جاتی ہے اس کارنامے پر... وہ آواز پہچان گئیں اور فوراً مڑیں... تم دونوں ؟ہاں ہم دونوں... اسکے بعد فضا میں ان چاروں کے قہقہے تھے... اب چلو یہ نہ ہو کے وہ لڑکی آکر مشی کو پکڑ لے ہاہاہاہا... ہاں چلو چلتے ہیں وہ سب عادی کی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئیں.... سعد نے اب ان دونوں کی کلاس لینی چاہی اب آپ دونوں بتائیں گیں زرا کہ یہ کیا حرکت تھی. جسٹ فار فن نینی نے مسکراتے ہوےُ جواب دیا کمال نہیں ہوگیا عادی ان دونوں نے تو بڑے بڑوں کو مات دے دی... بلکل اب کی بار مشی نے کہا.... ایسی حرکتیں تو کبھی ہم نے نہیں کیں جب کہ ایک دوسرے کر جگر ہیں ہم.. ہماری دوستی سے آپ اپنی دوست کا موازنہ نہ کریں بےکار ہے ہم مثالی دوست ہیں جو پوری دنیا میں دِیا لے کر ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملیں گی سعد مسکرا دیا مشی کو لاجواب کرنا اچھے سے آتا تھا.... ٹھیک ہے لیکن آئیندہ اس طرح کی کوئ حرکت نہیں کریں گیں آپ دونوں سعد نے سمجھانا چاہا اس سے پہلے کہ نینی کچھ بولتی مشی بول پڑی..کیوں بھئ ہم آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں تو ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں آپ یا کوئ اور ہم پر پابندی نہیں لگا سکتا مشی کی بات پر سب مسکرا دئیے.... اوکے جی کوئ نہیں روکتا آپ کو اب خوش سعد نے ہتھیار ڈالتے ہوےُ کہا کہ وہ جانتا تھا مشی سے بحث کرنا بےکار ہے وہ کہاں کسی کی سنتی تھی جو اس کی سنتی عادی ساری گفتگو کے دوران مسکرا رہا تھا اور مزے سے ان کو سن رہا تھا جو بھی تھا مشی کی باتیں سننے میں مزہ آتا تھا اس طرح وہ انجواےُ کر رہا تھا یہ سب... پھر ان دونوں کو ہاسٹل چھوڑا اور خود گھر چلے گے۔ ___________ اگلے دن مشی اور عادی کیفے میں آمنے سامنے بیٹھے تھے عادی اپنے کام میں مصروف تھا اور مشی فارغ بیٹھی تھی نینی اور سعد برگر لینے گۓ تھے مشی نے آج ناشتہ بھی نہیں کیا تھا بھوک سے اس کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے نینی جلدی آؤ چمچ زور سے پلیٹ میں مار کر کہا پھر یوں ہی چمچ زور زور سے پلیٹ میں مارنے لگی جیسے چھوٹے بچے کرتے ہیں. مشی مت کرو عادی نے نرمی سے کہا جب کہ مشی اس کی بات ماننے کے بجاےُ اور زور سے چمچ مارنے لگی مشی منع کیا ہے نہ کہ مت کرو ابھی آجاےُ گے نینی عادی نے پھر نرمی سے کہا لیکن مشی باز نہ آئ ساتھ میں نینی کو بھی آواز دی عادی نے منہ اٹھا کر مشی کو گھورا آپ پاگل تو نہیں ہو گئیں جب ایک بار منع کیا ہے کہ نہ کریں تو مطلب مت کریں اب کہ عادی غصے سے بولا. کیوں میں آپ کی غلام ہوں جو آپ کی بات مانوں گی میرا جو دل کرے گا میں وہی کروں گی اس کے غصے کا اثر لیے بغیر بولی آپ پر یہ بلکل سہی آتی ہے بھینس کے آگے بین بجانا لیکن میں نے تو آپ کے آگے بین نہیں بجایُ مشی نہایت معصومیت سے بولی کیفے میں موجود لوگ ان کی جنگ کا لطف لے رہے تھے.... آپ نہ صرف پاگل ہیں بلکہ آپ کا دماغی توازن بھی خراب ہے سو کسی سائیکیٹرس کو دکھائیں ٹھیک ہے مشی نے تابعداری سے کہا آپ دکھا لیں پہلے اگر فرق پڑا تو میں بھی ضرور دکھاؤں گی پرامس مشی مزے سے بولی جب کہ عادی بل کھاتا اپنی چیزیں سمیٹ کر چلا گیا.... کچھ دیر بعد نینی آگئ اور مشی نے مزے مزے سے اسے ساری بات بتایُ نینی ہنسنے لگی. تم دونوں بھی حد کرتے ہو تھوڑی دیر کے لیے ہی اکیلا چھوڑ دو تو فوراً جنگِ عظیم اول شروع کر دیتے ہو ..وہ کیا ہے نہ کہ ہم سوچتے ہیں کہ جو کمی انگریزوں سے رہ گئ وہ ہم پوری کر دیں مشی مسکراتے ہوےُ کھانے لگی جب کہ نینی اس کی بات پر ہنسنے لگی........ عادی کا غصہ فل ہایُ تھا وہ گراؤنڈ پر چیزیں پھینک کر اب چکر لگا رہا تھا کیونکہ کام تو اب وہ کر نہیں سکتا تھا مشی نے اس کا دمغ خراب کر دیا تھا عادی نے سعد کو میسج کر دیا تھا کہ وہ برگر لے کر گراؤنڈ میں آجاےُ... سعد نے آتے ہی عادی سے استفسار کیا؟ کیا ہوا اتنے غصے میں کیوں اور یہاں کیا کر رہا ہے سعد نے ایک ہی سانس میں کئ سوال کر ڈالے عادی بس گھور کر رہ گیا... ڈونٹ ٹیل می عادی کہ تمہاری مس چڑیل سے لڑائ ہوئ ہے... بلکل ٹھیک کہا عادی ضبط کرتے ہوےُ بولا.. تمہیں پتہ ہے سعد وہ کوئ معصوم وعصوم نہیں ہے بلکہ سائیکو ہے جسے میری بے عزتی کرنے کا خبط رہتا ہے کل مجھے لگ رہا تھا کہ شاید وہ دل کی اچھی ہے بس کبھی کبھی ایسی حرکتیں کر جاتی لیکن نہیں مہیں غلط تھا وہ ایک نہایت فضول لڑکی ہے جسے نہ عقل ہے نہ سمجھ بس مجھ سے لڑنا آتا ہے عادی شروع ہو چکا تھا سعد خاموش تھا کہ وہ ساری بھڑاس نکال لے لیکن عادی مزید کچھ بولے بغیر باہر نکل گیا سعد بس اسے دیکھ کر رہ گیا ان دونوں کا کچھ نہیں ہو سکتا...... عادی غصے سے پاگل ہوتا گھر پہنچا اور سیگرٹ پینی شروع کر دی..... یہ چھوٹی سی لڑکی میری جان کو آرہی ہے سمجھ نہیں آرہا کیا کروں اس کا دل تو کرتا ہے کہیں اٹھا کر پھینک آؤں..... عادی کو مشی کی سمجھ نہ آتی تھی کیونکہ آج تک اس کا سامنا مشی جیسی لڑکی سے نہیں ہوا تھا اس نے تو ہمیشہ لڑکیوں کو اپنے سامنے دل ہتھیلی پر رکھے دیکھا تھا اور ایک یہ تھی جسے عادی سے کوئ فرق ہی نہیں پڑتا تھا تو اب وہ کیسے اسے برداشت کر لیتا جس نے زندگی میں حکم چلانا سیکھا تھا..... مشی نے حملہ بھی اس کی سب سے عزیز چیز اس کے کردار اس کے وقار پر کیا تھا جب کہ وہ کوئ دل پھینک قسم کا انسان نہیں تھا وہ تو باےُ مسٹیک اس سے ٹکرا گیا تھا اور یہ سلسلہ یہاں تک پہنچ گیا تھا سوچ سوچ کر عادی پاگل ہو رہا تھا جب سموکنگ سے بھی کام نہ بنا تو سلیپنگ پلز لے کر سو گیا...... * آج شام پھر سے مشی اور نینی باہر تھیں وہ بے مقصد روڈس پر گھوم رہیں تھیں.... نینی چلو وہاں سے بریانی لیتے ہیں مشی نے ایک چھوٹی مگر صاف ستھری دکان کی طرف اشارہ کیا..... مشی اگر کچھ کھانا ہی ہے تو ہوٹل سے لے لیتے ہیں پتہ نہیں کیسی ہو ان کی... میں کچھ نہیں جانتی نینی آج تو یہیں سے کھائیں گے اور دونوں. مشی زبردستی اسے دکان پر لے گئ صفائ دیکھ کر نینی کو تھوڑی تسلی ہوئ اور اس نے بریانی لے لی. مشی کو بریانی لیتے ہوےُ پتہ نہیں کیا سوجھی جو دکاندار کو مخاطب کر بیٹھی.... بھائ کہیں اس میں گدھے کا گوشت تو نہیں؟ مشی نے اتنی معصومیت سے پوچھا کہ دکاندار سمیت سب ہنسنے لگے مشی اور نینی بھی ہنس دی اور نینی دل ہی دل میں مشی کی عقل کو اکیس توپوں کی سلامتی دے رہی تھی... دیکھیں اگر ایسا ہے تو ہمیں پہلے بتا دیں کیونکہ ہم ملتانی ہیں تو ہم تو نہیں کھائیں گے مشی قطعیت سے بولی..... دیکھیں اگرچہ لاہور اس حوالے سے مشہور ہے لیکن آپ یقین کریں ہم ایسا کام نہیں کرتے.. لو آپ ہمارے مامے لگتے ہو جو میں یقین کر لوں اور نینی کا دل کیا کہ اپنا سر پیٹ لے کہ مشی یہاں بھی شروع ہو گئ کسی کو تو بخش دیا کرو منہ میں بڑبڑایُ.... دیکھیں آپ پیک کرواچکی ہیں اب آپ کھائیں یا پھینکیں آپ کی مرضی. مشی ناک چڑھاتی باہر نکل آئ... کہاں سے لاتی ہو ایسی باتیں نینی پوچھنے لگی. یہ جو چھوٹا سا دماغ ہے نہ یہاں سے مشی نے دماغ پر انگلی رکھتے ہوےُ کہا نینی مسکرا دی.. کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھیں چکن کی کڑاہی نوش فرما رہیں تھیں. بر یانی وہ آتیں ہوئیں کسی فقیر کو دے آئیں. نینی یہ تو کھاتا رہتا ہو گا اس کو دے دیتے ہیں...... * کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں آئسکریم کھانے چل پڑیں کیونکہ مشی تو آئسکریم کی دیوانی تھی... آج مشی کو کوئ شکار نہیں ملا تھا اس لیے اس کا منہ پھولا ہوا تھا... نینی اسے سمجھا رہی تھی اچھا چلو کیا ہو گیا مشی کہ آج کچھ نہیں کیا اب یہ تو نہیں ہے کہ تم. نے بندے خریدے ہیں جس کے باوجود تمہیں کوئ نہیں ملا نینی اپنا سر کھپا رہی تھی اور وہ ناک منہ سکیڑے بیٹھی تھی جب اس کی نظر سامنے والے ٹیبل پر بیٹھے ایک لڑکے پر پڑی جو غالباً کافی دیر سے مشی کو ہی گھور رہا تھا مشی کو غصہ نکالنے کا موقع مل گیا اور بڑے اعتماد کے ساتھ اس کے سامنے جا کر بیٹھ گئ.... نینی حیران ہو رہی تھی کہ اب وہ کیا کرنے والی ہیں یقیناً اس لڑکے کی تو خیر نہیں نینی نے اپنی ساری توجہ ان دونوں پر مرکوز کر دی.... کیا لگا ہوا ہے میرے منہ پر ؟لڑکا اس کے اس طرح آنے سے کنفیوز ہوگیا.. کیا میرے منہ پر سینگ نکلے ہوےُ ہیں؟ سوری میں سمجھا نہیں... اچھا اب تمہیں میری باتیں سمجھ نہیں آرہی اور اتنی دیر سے جو میرا پوسٹ ماٹم کر رہے تھے اس کا کیا؟ اب لڑکے کو سمجھ نہ آیا کہ کیا بولے اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ ایسے سامنے آ کر بیٹھ جاےُ گی.... یہ بتاؤ آج ہی دنیا میں آےُ ہو؟ نہیں... تو پھر کبھی لڑکی نہیں دیکھی. لڑکے سے کوئ جواب نہیں بن پا رہا تھا اور نینی مزے سے انجواےُ کر رہی تھی.... لڑکا ہمت کر کے بولا آپ کا نمبر مل سکتا ہے.. ماشاللہ فون نمبر,کریڈٹ کارڈ نمبر بینک کا اکاؤنٹ نمبر سب دیتی ہوں ساتھ میں دو جوتے بھی مشی دانت پیستے ہوےُ بولی.... باقی سب تو سمجھ میں آتا ہے لیکن جوتے کس لیے؟ تمہارے سر اور منہ پر مارنے کے لیے... شکل دیکھی ہے تم نے اپنی آئ ڈی کارڈ دکھانے کے بعد تمہیں گھر میں کھانا ملتا ہو گا اور چلے ہو نمبر مانگے تمہاری صحت کے لحاظ سے تو تمہیں خون مانگنا چائیے تھا کم سے کم پورے نظر تو آتے اب ایسا لگ رہا ہے کہ اپنا آدھا حصہ گھر چھوڑ کر آےُ اُدھر نینی ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی... دیکھیں!! مشی نے اس کی بات کاٹی کیوں دیکھوں میں بڑے کوئ ریاست کے شہزادے ہو نہ جو پاگلوں کی طرح دیکھنے لگ جاؤ... لڑکے کو سمجھ نہ آئ کہ اس اچانک افتاد پر کیا کرے سو خاموش ہو گیا.... اچھا تو تمہیں نمبر چائیے تھا نہ میرا؟ جی. سعادت مندی سے جواب دیا.. تمہیں پتہ بھی ہے کہ میں کس کی بیٹی ہوں ایس_ایچ_او کی....... ابھی ان کو فون کر کے کہتی ہوں پھر دیکھنا ایسے ایسے کیس ڈلوائیں گے کہ دو تین سال تمہاری شکل صرف جیل میں نظر آےُ گی ای سی میں ہونے کے باوجود بھی لڑکے کو پسینہ آگیا.... یہ کہاں پھنس گیا میں اگلے ایک منٹ میں وہ وہاں سے بھاگ گیا جب کہ مشی ہنستی واپس آئ.... ہوگئیں خوش... اس کے آتے ہی نینی نے پوچھا. بلکل مزہ آگیا اس کی دُھلایُ کرنے میں مشی مسکراتی ہوئ بولی... تم نے تو اس کی جان ہی نکال دی پہلے ہی تھوڑی سی تھی ہاہاہاہا غصہ تھا تو نکال دیا سارا مشی نے آنکھ ماری وہ لڑکا کافی دبلا پتلا سا تھا اب وہ دونوں مزے سے آئسکریم کھانے لگیں...اس کے بعد وہ ہاسٹل کے لیے نکل گئیں.. * دیکھو ارسل میں کچھ نہیں سنوں گی تم میری ہیلپ کرو گے تو مطلب کرو گے اٹس فائنل مشی نے اپنا فیصلہ سناتے ہوےُ کہا. دیکھو مشی یہ غلط بات ہے وہ پروفیسر ہیں اور تم کہ رہی... مجھے نہیں پتہ ارسل بس تم نے کرنا ہے پلیز پلیز پلیز..... اچھا اچھا ٹھیک ہے لیکن صرف آج آئندہ نہیں کرو گا. ہاں ٹھیک ہے پکا...بلا آخر ایک لمبی بحث کے بعد وہ مان گیا تھا وہ ایسی ہی تھی اپنی بات منوا کر ہی دم لیتی تھی..... آج پروفیسر آمنہ نے ٹیسٹ لینا تھا چونکہ مشی کل گھومنے پھرنے میں مصروف تھی اس لیے اس نے بُک کو کھول کر بھی نہیں دیکھا تھا اور اب خود کو ان کے عتاب سے بچانے کے لیے اس نے ایک پلان بنایا تھا جس میں ارسل کی مدد درکار تھی جو اب راضی ہو چکا تھا مشی جتنا دماغ تم ان پلانز پر لگاتی ہو نہ وہی اگر پڑھائ میں لگا لو نہ تو یہ سب نہ کرنا پڑے.... مشی اِدھر اُدھر دیکھتے ہوےُ معاف کیجیے گا میں مشی تو نہیں ہوں آپ شاید کسی اور کو ڈھونڈ رہے ہیں مشی نے ایسے کہا جیسے وہ سچ میں کوئ اور ہو اور ارسل اس کی ڑرامے بازی پر مسکرانے لگا...... اس اثنا میں پروفیسر آمنہ اندر داخل ہوتیں نظر آئیں... ارسل بلکل ٹھیک کرنا ہے. اوکے باس... مشی اور ارسل پروفیسر کے پاس کچھ پوچھنے کی غرض سے گۓ وہ ڈائس کے سامنے کھڑی مشی کو سمجھانے لگیں.مشی نے خاصی احتیاط سے اس طرح چھپکلی ان کے کندھے پر رکھی جیسے وہ اوپر چھت سے گری ہو... میم آپ کے کندھے پر چھپکلی مشی چلائ وہ جو سمجھانے میں مصروف تھیں چیخیں مرتیں ڈائس کے پاس کام کی غرض سے پڑے ٹیبل پر چڑھ گئیں اور مشی ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی باقی کلاس کے بھی قہقہے بلند ہورہے تھے میم کے چھپکلی دیکھنے کے بعد ارسل نے جلدی سے اسے اپنی جیب میں ڈال لیا کہ کوئ دیکھ نہ لے نقلی چھپکلی... پروفیسر کلاس لینے کی بجاےُ سٹاف روم میں چلی گئیں مشی جانتی تھی ایسا ہی یو گا اب وہ خوش ہوتی نینی کے پاس اپنا کارنامہ سنانے گئ. ہاےُ نینی تم ہوتیں تو تم. نے پاگل ہو جانا تھا وہ سِین دیکھ کر.... مشی کتنی بدتمیز ہو خاد مزے لے آئ ہو تم ویڈیو ہی بنا لیتی نینی کو افسوس ہونے لگا... چل کوئ نہیں پھر کبھی مشی ہنستے ہوےُ اسے تسلی دینے لگی... مشی, نینی اور ارسل جب کیفے میں پہنچے تو عادی کھڑا کچھ کہ رہا تھا تمہاری وہ مس چڑیل نظر نہیں آرہیں.... اووو آئ سی غالباً ارسل کے ساتھ ہو گی آج کل اسی کے ساتھ ہوتی ہے نہ. عادی کو نہیں پتہ تھا کہ مشی نے اس کی بات سن لی ہے اس لیے انہیں دیکھ کر خاموش ہوگیا یہ نہیں تھا کہ وہ ڈرتا تھا وہ چاہتا تھا کہ یہ سب وہ دوسروں کے منہ سے سنے پھر کس کس کا منہ بند کرواےُ گی. مشی فل غصے میں اس کے پاس آئ. اس طرح کی چیپ حرکتیں آپ کرتے ہوں گے آپ کے خاندان میں ہوگے ایسے بیہودہ اور گھٹیا کام.. میں ایک عزت دار فیملی سے ہوں اور مجھے کسی کو بتانے کی ضروت نہیں ہے کیونکہ سب جانتے ہیں یہ فطور آپ کے گندے دماغ کا ہی ہو سکتا ہے مشی پھٹ پڑی تھی... آپ کی ہمت کیسے ہوئ کہ میری فیملی------ اس کی بات سنے بغیر ہی مشی مڑ گئ... کےفے میں ان دونوں کی آوازوں کے علاوہ مکمل خاموشی تھی.. جیسے ہی مشی مڑی اس کی نرم کلایُ عادی کی مضبوط گرفت میں آگئ میری بات مکمل ہونے سے پہلے آپ نہیں جا سکتی...... مشی جھٹکے سے اپنی کلایُ اس کی گرفت سے آزاد کرواتی مڑی اور ایک زوردار تھپڑ عادی کے منہ پر رسید کر دیا.... خاموش فضا میں مشی کے تھپڑ نے ارتعاش پیدا کیا سب ساکن ہو کر یہ سب دیکھ رہے تھے.. عادی اس حملے کے لیے تیار نہ تھا. آئندہ میرا ہاتھ پکڑنے یا ٹچ کرنے سے پہلے اس تھپڑ کو یاد کر لینا کہ کر مشی رُکی نہیں اور وہاں سے نکل گئ... عادی بھی غصے میں پاگل ہوتا وہاں سے نکل گیا.. کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کی چھوٹی موٹی لڑائیاں اس نہج تک بھی پہنچ سکتی ہیں... عادی اور مشی کافی مشہور تھے یونی میں ہونے والی لڑائیوں میں مشی اور عادی سرفہرست تھے اور اب آگے نہ جانے اس سب کا کیا نتیجہ نکلنے والا تھا.... *. * عادی طیش کے عالم میں گھر پہنچا اور خو کو اندر بند کر لیا ملازم سے کہ دیا کہ کسی کو بھی اندر نہ آنے دے..... غصے سے عادی کا دمغ گھوم گیا تھا اور روم کی ہر چیز اٹھا اٹھا کر پھینکنے لگا سارا کمرہ تہس نہس ہو چکا تھا,اندر موجود ہر چیز ٹوٹ کر بکھری ہوئ تھی کمرے میں نائٹ بلب چل رہا تھا جس وجہ سے نیم تاریکی تھی بالکنی کا دروازہ بھی بند تھا جب اس سب سے بھی سکون نہ ملا تو شیشے پر دیوانہ وار مکے برسانے لگا اس کا ہاتھ زخمی ہو چکا تھا لیکن اسے پرواہ نہیں تھی عادی نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑ لیے اسے چین نہیں مل رہا تھا.آگے بڑھ کر اس نے بیڈ کے سائیڈ پر بنے ڈراع سے سیگرٹ اور لائٹر نکالا اور پینی شروع کر دی وہ زمین پر ہی بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور دوسری پے دوسری سیگرٹ سلگاتا گیا ابھی وہ کچھ سوچ نہیں رہا تھا کیونکہ اسے اگر کچھ یاد تھا تو صرف مشی کا تھپڑ عادی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مشی کا کچھ کر دے وہ خالی الذہنی کے ساتھ بیٹھا تھا جب اسے دروازے کے باہر سعد کی آواز آیُ وہ شاید ملازم سے جھگڑ رہا تھا چابیوں کے لیے جب کہ وہ عادی کے غصے کی وجہ سے منع کر رہا تھا بلاآخر وہ چابیاں لینے میں کامیاب ہوا اس نے دروازہ کھولا تو کمرہ سے سیگرٹ کی بو آرہی تھی اور کمرے کی ہر چیز زمین پر ٹوٹی تھی نیم تاریکی میں اسے عادی بیڈ کے ساتھ بیٹھا نظر آیا سعد اس کے پاس چلا گیا... یہ کیا حالت بنا رکھی ہے عادی سعد کو دکھ ہوا اس کی حالت دیکھ کر... اس کے ساتھ وہ بھی زمین پر بیٹھ گیا.... عادی خود پر ہنسا یہ حالت تو کچھ بھی نہیں سعد اس کے مقابلے میں جو حال اس مشی نے میرا کیا ہے ضبط اور غصے سے عادی کی آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئ تھی جو سعد کو اس ہلکی روشنی میں بھی نظر آ رہیں تھیں... سعد ابھی بولنے ہی لگا تھا کہ اس کی نظر عادی کے ہاتھ پر پڑی جہاں سے خون ابھی بھی بہ رہا تھا... یہ کیا عادی تو پاگل تو نہیں ہو گیا سعد فوراً اٹھا اور فسٹ ایڈ باکس نکالنے لگا جب اس کی نظر ٹوٹے ہوے شیشے پر پڑی غالباً عادی نے اس پر مکے رسید کیئے ہوں گے سعد جلدی جلدی خون صاف کر کے پٹی کرنے لگا عادی کی تکلیف اسے بھی تکلیف دے رہی تھی ایک آنسو اس کی آنکھ سے گرا جسے اس نے فوراً صاف کر لیا کیونکہ مرد ہے نی رو نہیں سکتا تھا جب کہ عادی دیکھ چکا تھا... سعد تو کیوں رو رہا ہے؟تو نے جو اپنی حالت بنا رکھی ہے تو کیا یہاں بیٹھ کر قہقہے لگاؤ سعد غصے سے بولا...تجھے پتہ ہے سعد میرا دل کر رہا ہے کہ میں اس مشی کو شوٹ کردوں مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے سب مجھ پر ہنس رہے ہیں میرا مزاق بنا رہے ہیں کہ دیکھو ایک لڑکی نے سب کے سامنے تمہارا کیا حال کر دیا میں پاگل ہو جاؤ ںگا سعد میں کیسے اپنی تذلیل برداشت کروں اور کیوں آج تک میرے سامنے کسی کی نہیں چلی تو ھر اس لڑکی کی کیوں عادی نے دوسرے ہاتھ میں گن پکڑ رکھی تھی سعد تو اسے میرے سامنے لے کر آ میں اس گن کی ساری گولیاں اس چار فٹ کی لڑکی میں اتار دوں گا عادی کی آنکھوں میں بےپناہ نفرت اور طیش صاف دکھائ دے رہا تھا... ٹھیک ہے میں اسے لے آتا ہوں تو اسے شوٹ کر دینا پھر اس کے بعد کیا سعد نے سوالیہ نظروں سے عادی کو دیکھا.. کیا؟ اس کے بعد یہ کہ تو جیل میں. سب جانتے ہیں کہ مشی نے تجھے تھپڑ مارا ہے اور یہ بھی کی تو کس قسم کا انسان ہے اگر مشی کو کچھ بھی ہوا تو سب سے پہلے تجھے پکڑیں گے اس لیے ہوش سے کام لے تو اسے مرنا چاہتا ہے نہ تو مار لینا لیکن ابھی نہیں سہی وقت آنے پر کسی کو پتہ بھی نہ چلے.... عادی نے پُرسوچ انداز میں ٹھیک ہے کہا.. اب غور سے میری بات سن ریلیکس رہ اور اپنی حالت ٹھیک کر کچھ وقت تجھے صبر سے گزارنا پڑے گا تاکہ ہر چیز ٹھیک ہو جاےُ اور جو تھوڑی سی زندگی بچی ہے اس کی تھوڑی سی جی لینے دے اسے بھی ریلیکس رہنے دے پھر اچانک اٹیک کرنا ابھی تو وہ بھی چوکنا ہو گی کہ تم ری ایکٹ کرو گے تو ابھی کچھ بھی کرنا بے سود ہے سمجھ گۓ. عادی نے اثبات میں سر ہلایا سعد نے پانی میں نیند کی گولیاں مکس کیں اور عادی کو پلا دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ خود سے نہیں سوےُ گا دونوں ڈرائنگ روم میں چلے گۓ تاکہ ملازم کمرہ سمیٹ سکے۔ 

( جاری ہے )

اگلی قسط کل آئے گی 

Comments

Popular posts from this blog

نفرت سے شروع ہونے والی محبت کی داستان

  نفرت_سے_شروع_ہونے_والی _محبت_کی_داستان قسط نمبر 2 آج یونی میں عادی اور مشی کا سامنا نہیں ہوا جس وجہ سے بچت ہو گئ شام میں آج مشی اور نینی کا پلان گھومنے پھرنے کا نینی یار جلدی کرو کب سے شیشے کے سامنے کھڑی ہو ورنہ واپس آتے دیر ہو جاےُ گی مشی بس 2 منٹ دے دو نینی قد آور آئینے کے سامنے کھڑی بال برش کر رہی تھی اس نے بلیو جینز پر ریڈ شرٹ پہن رکھی تھی اور اب ریڈ لپ اسٹک لگانے میں مصروف تھی بال کیچر میں مقید تھے وہ بےحد حسین لگ رہی تھی مشی نے بلیک جینز پر وائٹ شرٹ پہن رکھی تھی لمبے بال کھول کر آگے کو ڈال رکھے تھے پنک لپ اسٹک لگاےُ وہ کوئ چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی پہلے تو وہ دونوں پیدل چلتی رہیں یار نینی گھر سے گاڑی ہی منگوا لیتی میرے مائنڈ میں نہیں رہا اچانک نینی کو شرارت سوجھی ایسا کرتے ہیں کہ پہلے چل کر پیزا کھا لیتے ہیں تب تک گاڑی بھی آ جاےُ گی مشی تھک چکی تھی اس لیے فوراً مان گئ وہ دونوں پیزا کھا رہیں تھیں جب نینی کا فون بجا ہاں ہم رائٹ سائڈ پر ہیں آ جاؤ مشی مزے سے کھا رہی تھی جب اچانک اس کی نظر سامنے سے آتے معید پر پڑی جو مسکرا کر ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہا تھا نینی ...