نفرت_سے_شروع_ہونے_والی_محبت_کی_داستان
قسط نمبر 5
پہلا سمیسٹر شروع ہونے والا تھا تمام سٹوڈنٹس رٹے لگانے میں مصروف تھے. کوئ کلاس میں کوئ لائبریری میں کوئ گراؤنڈ میں یہاں تک کہ کیفے میں بھی پڑھائ کرتے دکھائ دیتے ایگزام کی وجہ سے مشی اور عادی کی لڑائ کا اثر یونی میں ذائل ہو چکا تھا کہ سب کو اپنی پڑی تھی. مشی اور نینی کے بیچ میں اس بارے میں کوئ بات نہیں ہوئ تھی کہ مشی حق پر تھی.... مشی اور عادی کا آج کل سامنا نہیں ہو رہا تھا کیونکہ وہ زیادہ تر لائبریری میں پایا جاتا اور عادی کے لیے یہی بہتر تھا کہ مشی کو دیکھ کر اس کا خون کھولتا تھا.....
*********
نینی یار میں تو بہت تھک گئ ہو مشی نے جمایُ روکتے ہوےُ کہا.. رات کے دو بج رہے تھے اور وہ دونوں بیٹھی پڑھ رہیں تھیں... نینی کتنا اچھا ہوتا نہ اگر لائف میں یہ منحوس ایگزام نہ ہوتے تمہارا بس چلے تو تم تو سٹڈی ہی ختم کروا دو... نہیں اب ایسی بھی بات نہیں صرف ایگزام, سوچو اگر ایگزام نہ ہوتے تو زندگی کتنی پُرسکون ہوتی کہتی کہتی مزے سے بیڈ پر لیٹتی چلی گئ. نینی نے اسے کشن دے مارا یہ اگر تم پہلے کچھ پڑھ لیتیں تو یہ سب نہ کہ رہی ہوتیں ہاہاہاہا اگر پہلے پڑھتی تو پھر تمہیں مزے کون کرواتا کہ کر روم سے باہر نکل گئ اور نینی پھر سے مصروف ہوگیُ.. کچھ دیر بعد مشی واپس روم میں آئ تو اس کے ہاتھ میں کافی کے دو مگ تھے.. واہ مشی تھینک یو مجھے ضرورت تھی اس کی. ہاں مجھے پتہ تھا اس لیے تو بنایُ... اچھے سے جانتی ہوں تمہیں پڑھنا نہ پڑے اس لیے بنائ مشی نے مسکرانے پر اکتفا کیا.آج کل میں ارسل کے بارے میں سوچ رہی تھی بظاہر تو اس میں کوئ برایُ نہیں تھی شکل سے بھی ٹھیک ہے اور سب سے بڑھ کر میری ہر اچھی بری بات مانتا اور برداشت کرتا ہے مجھے کوئ ایسا انسان ہی سوٹ کرتا جیسی میری عادتیں ہیں. ٹھیک ہے اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ پیپرز کے بعد وہ حامی بھر لے گئ اگرچہ اسے ارسل سے نہ محبت تھی نہ پسندیدگی بس وہ ایک اچھا انسان ہے اسی لیے.... کافی پیتے پیتے اس نے ساری بات نینی کو بتائ..... بس اب تو کچھ ہی پیپرز رہتے تھے...
*********
سنا ہے لاسٹ پیپر والے دن کوئ کنسلٹنٹ آنے والے ہیں.. عادی نے سعد سے پوچھا... ہاں باہر کے ممالک میں سٹڈی کی انفارمیشن کے لیے... عادی خاموش ہو کر سوچنے لگا.. کیا ہوا؟؟؟
تمہیں یاد ہے سعد پروفیسر حامد نے مجھے کلاس سے باہر نکالنا چاہا تھا ؟؟ ہاں اور تو نے انکل کو کہ کر اسی وقت انہیں خاموش کروا دیا تھا... ہاں تو پھر اب ان کو ان کے کیے کی سزا بھی تو ملنی چاہئے نہ کہ مجھے نکالنا چاہا تھا نہ انہوں نے.... لیکن تو باہر تو گیا ہی نہیں تھا... وہ الگ بات ہے میرے انسلٹ تو ہو گئ تھی نہ اور بےعزتی کا بدلہ بےعزتی.. عادی کے چہرے پر بھرپور اطمینان تھا ....یعنی تم نے کچھ سوچا ہے؟ بلکل عادی مسکرایا.... آج وہ کافی دنوں بعد مسکرایا تھا سعد کو اچھا لگا اس کو پہلے جیسا دیکھ کر.... چل ٹھیک ہے پلان بتا..... عادی نے اسے پلان سمجھایا.. آہاں زبردست عادی مطلب بدلہ بھی اور مزہ بھی.... بلکل سعد حماد اور ایک کلاس فیلو کو فون کرنے لگا کہ ان کی مدد درکار تھی اور وہ دونوں مان چکے تھے البتہ حماد سے کچھ بحث ہوئ لیکن پھر وہ بھی مان گیا کہ وہ ان کا کالج میں بھی دوست تھا.... اب عادی اور سعد لاسٹ پیپر کے منتظر تھے. عادی کافی رف سے حلیے میں تھا بڑھی شیو بکھرے بال اور رف سی شرٹ میں بھی وہ دلنشین لگ رہا تھا.......
***********
اللہ اللہ کر کے ایگزام ختم ہوےُ لاسٹ پیپر کا دن تھا جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا مشی جلدی جلدی پیپر کر رہی تھی تاکہ سب سے پہلے فارغ ہو جاےُ.... آہستہ کر لیں مس مسکان. آپ تو ایسے کر رہیں ہیں جیسے کوئ آپ کے پیچھے ہے... بس سر کچھ ایسا ہی سمجھ لیں کہ کوئ پیچھے پڑا ہے... آخری پیپر اور پھر بھی مشی کا دل کر رہا تھا کہ ایسے ہی بھاگ جاؤں..... مشی نے آج ڈارک ریڈ کلر کی فراک پہن رکھی تھی, بال سارے کھول رکھے تھے چہرہ میک اپ سے عاری لیکن آخری پیپرکی خوشی سے دمک رہا تھا... سب سے پہلے مشی نے ختم کیا.. سر ڈن... آپ کی لگتا ہے یہاں سے فوراً بعد فلائیٹ ہے نہیں سر اصل میں اب صبر نہیں ہو رہا تھا اس لیے جلدی جلدی کیا تاکہ کھلی فضا میں سانس لے سکوں.. تو مشی تب سے تم کہاں سے سانس لے رہی ہو... کسی سٹوڈنٹ نے ہانک لگائ.. تب سے تو ایسے لگتا تھا آکسیجن ماسک کی مدد سے لے رہی ہوں.. سر مسکرانے لگے اور مشی جھومتی ہوئ باہر آگئ جتنی وہ آج خوش تھی شاید ہی زندگی میں اتنی خوشی ملی ہو.سب ابھی پیپر کرنے میں مصروف تھے تو مشی کیفے میں چلی آئ... آج چونکہ میں بہت خوش ہوں اس لیے تمہیں ڈبل پیسے دوں گی بریانی کے... وہ شاید پاگل ہی ہو گئ تھی خوشی میں....... وہ کھانے میں مصروف تھی جب نینی مسکراتی ہوئ آئ.... کیسا ہوا پیپر؟ نینی جب تم اس طرح کے منحوس سوال کرتی ہو نہ زہر لگتی ہو مجھے. ہاہاہاہا اچھا ...ہاں اور نہیں تو کیا اب جب بندہ دے ہی آیا ہے تو پھر پوچھنے سے بھا غلط صحیح ہوجاےُ گا کیا مشی منہ بسورتے ہوےُ بولی.... اوکے بھئ نہیں پوچھتی اب ٹھیک ہے؟ ہاں... اور نینی شام میں باہر چلنا ہے اوکے نہ ؟ اوکے ہے.....
*********
اُدھر عادی, سعد, حماد اور ان کا دوست اپنے پلان کی تیاریوں میں مصروف تھے..... ہر پروفیسر کی چئیر کے پیچھے ان کا نام کھا ہوتا جس پر وہ بیٹھتے....سعد اور حماد نے احتیاط سے ان کی چئیر میں بیلون رکھ دیا تھا اب جب وہ بیٹھتے تو پھر ہی پتہ چلتا.... ان کے دوست کے ذمے سر کی کلوز ویڈیو ود آڈیو بنانا تھا..... آہستہ آہستہ ہال سٹوڈنٹس سے بھرنے لگا.. سر حامد ہمیشہ لیٹ ہوتے اور یہی وہ چاہتے تھے .....عادی نے آج بلیو ڈریس پینٹ ساتھ وائیٹ شرٹ اور بلیو ہی کوٹ پہن رکھا تھا. بال سلیقے سے بناےُ وہ کافی فریش اور پہلے جیسا لگ رہا تھا وہ لوگ اپنی جگہ پر بیٹھ گۓ ہال میں مکمل خاموشی تھی جب سر آےُ اور اپنی سیٹ سنبھالی جیسے ہی وہ بیٹھے غبارہ زوردار آواز سے پھٹ گیا سر شرمندہ ہو کر کھڑے ہو گۓ دوبارہ بیٹھے تو دوسرا غبارہ بھی پھٹ گیا سر کو سمجھ نہ آیا کہ کیا ہورہا ہے اور سٹوڈنٹس کے قہقہے پورے ہال میں گونج رہے تھے ٹیم کے ممبر جو سٹیج پر آغاز کرنے کے لیے کھڑے تھے اپنی مسکراہٹ پر قابو پانے لگے جب کہ سر غصے سے اٹھ کر چلے گۓ...... عادی ہنس ہنس کر پاگل ہو رہا تھا وہ اپنی جیت پر خاصا مسرور نظر آرہا تھا عادی نے سب کو تھینکس کا ٹیکسٹ کیا.... ڈسپلن دوبارہ صحیح کروایا گیا اور انہوں نے انفارمیشن دینے کا سلسلہ شروع کیا......
*********
مشی اور نینی آج پیدل یونی سے ہاسٹل جا رہیں تھیں یہ بھی مشی کی ہی ضد تھی لیکن بعد میں نینی نے کریم بلوا لی... مشی کیا ہے شام کو باہر جانا ہے اور تم پہلے ہی تھکا دو نینی بگڑے تیوروں سے بولی تو مشی مان گئ.وہ دونوں کریم کا انتظار کر رہیں تھیں جب ایک لڑکا انہیں اشارے کرنے لگا مشی تو تپ گئ نینی ابھی اس کی عقل ٹھکانے لگاتی ہوں نینی وہیں کھڑی رہی.. ان سے کچھ فاصلے پر لوگ کھڑے تھے مشی نے جا کر ان سے اس طرح سے کہا کہ لڑکے کو پتہ ہی نہ چلا... وہ آکر مزے سے نینی کے ساتھ کھڑی ہو گئ... بس اب دیکھتی جاؤ نینی مشی نے آنکھ مارتے ہوےُ کہا وہ لڑکا ابھی بھی وہیں کھڑا تھا جب کچھ لوگ اس کے پاس آےُ.... لڑکیوں کو چھیڑتا ہے شرم نہیں آتی ان جملوں کے ساتھ اس کی دھلایُ شروع ہو گئ.. مشی اور نینی ہنستی ہوئ یہ سب انجواےُ کر رہیں تھیں پھر جب اس لڑکے کو مارنا بس کیا تو مشی اس کے پاس گئ وہ لڑکا ڑر کے پیچھے ہو گیا کہ شاید وہ بھی مارنے آئ ہے... اس کی اس حرکت پر مشی ہنسنے لگی اور بولی اب بولو زرا آئیندہ چھیڑو گے کسی لڑکی کو ؟؟؟ نہیں سوری باجی کہ کر نکل گیا.... کریم آچکی تھی اور ان کے دانت اندر ہی نہیں جا رہے تھے.... ہاسٹل پہنچتے ہی دونوں بیڈ پر ڈھیر ہو گئیں اور سو گئیں
*********
شام میں مشی اور نینی جانے کے لیے تیار ہونے لگیں... مشی میں نے سعد اور عادی کو فون کر دیا ہے ہمیں پک کر لیں گے ٹھیک ہے... وہ دونوں بھی ساتھ جائیں گے؟ تمہیں کوئ مسئلہ ہے کیا؟؟ نہیں میں تو ویسے پوچھ رہی تھی.. مشی نے آج جینز پر گرے ٹی شرٹ پہن رکھی تھی بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھا ہوا تھا ہلکی پنک لپ اسٹک اس کے رنگ کو مزید نکھارتی... نینی نے جینز پر لائٹ پنک کلر کی ٹی شرٹ پہنے بالوں کی ٹیل پونی بناےُ پنک ہی لپ اسٹک لگاےُ وہ کافی پرکشش لگ رہی تھی.... وہ دونوں تیار ہو چکی تھیں لیکن ان دونوں کی کوئ خبر ہی نہیں تھی..مشی کو انتظار سے سخت کوفت ہوتی تھی اب بھی وہ غصے میں منہ پھلاےُ بیٹھی تھی لیکن ابھی تک کچھ بولی نہیں تھی اور نینی دعا کر رہی تھی کہ مشی کے بولنے سے پہلے وہ لوگ آجائیں.... پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ گاڑی کا ہارن سنائ دیا نینی نے شکر ادا کیا.. وہ دونوں اپنے موبائل اٹھاتیں نکل گئیں... وہ دونوں گاڑی میں ہی تھے عادی ڈرائیونگ سیٹ پر اور سعد فرنٹ سیٹ پر.... وہ دونوں آکر پیچھے بیٹھ گئیں عادی سامنے دیکھ رہا تھا جب وہ آکر بیٹھیں اس نے مرر سیٹ کیا تو اس میں مشی کا چہرہ نظر آیا... اردگرد سے بےخبر وہ اپنے پرس میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی ایک پل کے لیے عادی کی نظر واپس ہونے سے انکاری ہوئ لیکن اگلے ہی پل اس نے نخوت سے سر جھٹک دیا گاگلز لگاےُ اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا مشی نے چور نظروں سے مرر میں عادی کو دیکھا وہ بلکل نارمل لگ رہا تھا لیکن اسے تھوڑا عجیب لگ رہا تھا اس دن کے بعد سے یہ ان کی پہلی ملاقات تھی.... ٹھیک ہے جب وہ نارمل بی ہیو کر رہا ہے تو پھر میں کیوں عجیب سمجھوں اس کے سامنے آنا وہ خود سے باتیں کر رہی تھی حالانکہ اسے امید تھی کہ عادی جوابی کاروائ کرے گا لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا مطلب اب سب ٹھیک ہے وہ ریلیکس ہو گئ وہ اپنی سوچوں میں تھی جب اسے میڑو سٹیشن نظر آیا... عادی گاڑی روکو... مشی نے اچانک کہا تو عادی نے فوراً بریک لگائ اور بیک مرر سے اس سے پوچھنے لگا کہ کیا ہوا؟؟ بس یہیں تک گاڑی میں جانا تھا... کیوں آگے تم نے پرائیویٹ جٹ بلوایا ہے عادی نے بگڑتے ہوےُ کہا.... جی نہیں.. آگے ہم میڑو میں جائیں گے سٹیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوےُ کہا.... مشی تمہیں کوئ دورہ پڑتا ہے کیا ؟ اب کی بار نینی نے جواب دیا... یہ ان کے لیٹ آنے کی سزا ہے اب باہر نکلو سارے جلدی. وہ خود باہر نکلتی ہوئ بولی.. نینی چپ ہوگیُ اور سوچنے لگی کہ اس لیے تب چپ کر کے بیٹھی تھی اف مشی تم بھی نہ!!!!
نینی بھی باہر نکل گئ کہ اس کے علاوہ کوئ چارہ نہیں تھا... وہ بھی میٹرو میں مہیں جانا چاہتی تھی لیکن سامنے مشی تھی سو چپ چاپ کھڑی رہی.... نینی کے پیچھے سعد بھی نکل آیا.... یار مشی دیکھو اس ٹائم بہت رش ہو گا بیٹھنے کے لیے جگہ بھی نہیں ملے گی... سعد نے اسے سمجھانا چاہا... ہاں تو ہم کھڑے ہو کر چلے جائیں گے کوئ مسئلہ نہیں.وہ بھی مشی تھی... مشی بات کو سمجھو اس طرح خود کو خوار کرنے کا کیا فائدہ؟ فن اینڈ انجواےُمینٹ مشی فوراً بولی....آرام سے گاڑی میں چلتے ہیں بات مان لو.... اگر جائیں گے تو سب میٹرو میں ورنی گاڑی میں میں نہیں جاؤں گی.... مشی ہاتھ باندھ کے منہ موڑ کے کھڑی ہو گئ..... سعد تم بھی کسے سمجھا رہے ہو تم لوگ اتنی لیٹ آےُ ہو وہ اب کبھی نہیں مانے گی میٹرو میں ہی جانا پڑے گا... عادی اس سارے معاملے میں لاپرواہ سا بنا بیٹھا تھا.... عادی گاڑی لاک کر کے آ جا...سعد نے اسےبلایا.... واٹ؟ تم لوگوں کا دماغ تو خراب نہیں وہ جو کہے گی مانتے جاؤ گے کیا...... سعد نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا.... وہ تلملاتا ہوا باہر آگیا.... وہ لوگ بس کا انتظار کر رہے تھے جب عادی مشی ہر شروع ہو گیا... حد ہوتی ہے ویسے آپ نے اپنے ساتھ باقی سب کو بھی خوار کرنے کی ٹھانی ہے کیا؟؟ ہاں تو آپ اے کس نے کہا تھا کہ اتنی لیٹ آئیں... بولنے کے ساتھ ساتھ وہ آہستہ آہستہ چل بھی رہی تھی کہ وہ بولنے میں اتنی مگن تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کے پیچھے کوئ بابا جی کھڑے ہیں اس سے پہلے کہ اس کی ٹکر ہو جاتی مشی ایک دم سے پیچھے ہٹ گئ وہ سب ہنسنے لگے.... اگر آپ تھوڑا دھیان آس پاس بھی رکھیں تو یہ سب نہ یو کہ کر عادی ہنسنے لگا مشی خود بھی ہنس رہی تھی اور کہنے لگی کہ مجھے نظر نہیں آ رہا تھا تو بابا جی کو تو آ رہا تھا نہ وہ ہٹ جاتے لیکن نہیں....... بس آئ تو اس میں رش تھا اس لیے کھڑے ہو کر جانا پڑا وہ بابا جی عادی کے ساتھ کھڑے تھے اور اسے کچھ کہ رہے تھے اس کے بعد عادی کے قہقہے بند ہی نہ ہوں مشی اور نینی سوچ رہیں تھیں کہ ایسی کون سے باتیں کر رہے ہیں وہ..... کچھ ہی دیر میں ان کا سٹیشن آ گیا اور پھر وہ لوگ قریبی ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے... عادی تم بس میں اتنا ہنس لیوں رہے تھے؟ عادی کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آگئ.... اچھا تو پھر سنو سب وہ بابا جی مجھے کہتے کہ تمہاری معشوقہ تمہارے پیار میں اتنی پاگل ہے کہ اسے دنیا کہ بھی ہوش نہیں.... یہ بات کہنے کی دیر تھی کہ وہ سب بھی ہنسنے لگے..... میں نے ان سے کہا کہ وہ میری معشوقہ نہیں ہے تو کہنے لگے کہ پھر گرل فرینڈ ہو گی 😂 میں نے کہا کہ آپ کو گرل فرینڈ کا پتہ ہے تو ناراض ہو کر بولے کہ ہاں ایک میری بھی ہے اُف ایسی ایسی باتیں کر رہے تھے کہ مجھ سے تو ہنسی ہی کنٹرول نہ ہو عادی بول رہا تھا اور وہ سب ہنس رہے تھے.. دیکھو میری وجہ سے اتنا مزہ آرہا ہے اور تم سب مجھے سنا رہے تھے مشی نے شکوہ کرتے ہوےُ کہا ٹھیک ہے مان لیتے ہیں بھئ سعد نے اس کی تائید کرتے ہوےُ کہا اا کے بعد وہ لوگ کھانا کھانے میں مصروف ہو گۓ عادی کن اکھیوں سے اپنی اس دشمن کو دیکھ رہا تھا ایسا صرف مذاق میں ہی ممکن ہو سکتا ہے وہ اس بات کے لیے خود کو جواب دینے لگا کیونکہ
اس کا مقصد تو کچھ اور تھا کھانے لگا....وہ لوگ واپس بھی میٹرو پر گۓ جہاں تک ان کی گاڑی کھڑی تھی...
**********
ماما میری ہائیٹ اتنی چھوٹی کیوں ہے آپی کی تو اتنی اچھی ہے پتہ ہے مجھے بچی کیتے ہیں سب.... مشی نے منہ بسورتے ہوےُ شکایت کی.... بیٹا اب سب کی ہائیٹ ایک جیسی تو نہیں ہوتی نہ آپ کی اللہ نے اتنی ہی طے کی ہوگی..... یہ کیا بات ہوئ میں چاہتی ہوں کہ میری ہائیٹ تھوڑی زیادہ ہو..... نینی بولی کہ مشی اب تو کچھ نہیں ہو سکتا..... ایسے کیوں نہیں ہو سکتا میرے پاس ایک آئیڈیا ہے اور وہ ضرور کام کر گا.... اچھا بتاؤ کون سا آئیڈیا ماما نے پوچھا.... میں کوملپین پیا کروں گی مشی نے خوش ہوتے ہوےُ کہا جب کہ نینی اور مسز حیدر کی حیرت کی انتہا نہیں تھی مشی تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نہ. جی بلکل ماما.... آپ نے دیکھا نہیں ہے کمرشل میں وہ بتاتے ہیں کہ ہائیٹ بڑھانے کے لیے پیئں... لیکن پاگل وہ بچوں کے لیے ہے اب کی بار نینی بولی..... ہاں تو کیا ہوا اگر میں بھی پی لوں گی تو جب کہ مسز حیدر اور مشی نے سر پیٹ لیا کہ اس کے دماغ میں یہ الٹی چیزیں کہاں سے آتی ہیں....بس میں نے کہ دیا تو کہ دیا اٹس فائنل.... مشی تم پاگل ہو گئ ہو کیا؟ بس اس لڑکی کے منہ سے کچھ نکل جاےُ پھر تو پوری کر کے دم لیتی ہے.. مشی ناراض ہو کر اپنے بیڈ پر چلی گئ نینی اگر یہ لے کر آےُ تو باہر پھینک دینا مجھے لگتا ہے دن بہ دن اس کی عقل ختم ہو رہی ہے ٹھیک ہے آنٹی میں دیکھتی ہوں اسے... نینی کال کٹ کر کے مشی کے پاس آئ اور اسے ہگ کرتے ہوےُ بولی ناراض ہو مجھ سے ؟؟؟ نہیں تو پھر ایسے کیوں بیٹھی ہو... یار نینی تم میری اچھی دوست ہو نہ؟؟ ہاں.... تو بس پھر تم مجھے منع نہیں کرو گی یار مجھے ٹرایُ تو کرنے دو.... اچھا ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرط ہے.... مجھے ساری شرطیں منظور ہیں مشی خوشی سے نہال ہوگیُ.... اونلی ون منتھ اگر ایک انچ بھی فرق پڑا تو تم کانٹینیو کرنا اور اگر نہیں تو پھر تم چھوڑ دو گی... اوکے ڈن.... لو یو نینی تم سب سے اچھی ہو.. لو یو ٹو 😘 پتہ نہیں مشی تم کب بڑی ہو گی نینی سوچنے لگی..
________
مشی کی آنکھ فون بجنے سے کھلی. اس نے نمبر دیکھے بغیر کال اٹینڈ کی... جی کون محترمہ بول رہیں ہیں؟؟؟ مسز حیدر کو حیرت ہوئ کہ مشی نے ان کی آواز نہیں پہچانی... یقیناً سو رہی ہو گی حد ہے اس لڑکی کی طرف دن کے دو بج رہے ہیں اور یہ ابھی تک سو رہی ہے.... بیٹا جی میں آپ کی ماں بول رہی ہوں...غصے سے بولیں.... دیکھیں آپ جو بھی محترمہ ہیں میں ابھی مذاق کے موڈ بلکل نہیں.. مشے نے جمائ روکتے ہوےُ کہا... مشی!! اب کے انہوں نے زرا زور دے کر کہا.... مما؟؟ مشی نے نمبر چیک کیا... اووپسس...سوری ماما میں سو رہی تھی.... جی وہ تو مجھے پتہ چل ہی رہا ہے.... خیر ہے ویسے اب فون کیا ابھی رات میں تو بات ہوئ تھی.... مشی بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ.... جی رات میں تو آپ نے بھلا دیا تھا اس لیے اب بتا رہی ہوں کہ آپ کے بابا جانی نے کہا ہے کہ آج ملتان آ جائیں.... خیریت؟؟ وہاں جا کر تو سب کچھ ہی بھول گئ ہو... ندا آپی کی انگیجمینٹ کرنی ہے یاد آیا ....اووو جی جی یاد آگیا... اب بس جلدی دے نینی کے ساتھ آجاؤ آج ہی اور یاد سے لیٹ نہ ہونا مجھے کام ہے گھر آؤ گی پھر بات کرتے ہیں اوکے.....
مشی نینی کے اوپر گر گئ وہ جو مزے سے خواب دیکھ رہی تھی کراہتی ہوئ مشی کو پیچھا کیا مشی تم پاگل ہو کیا تمہیں نہیں پتہ کہ سوتے ہوےُ انسان کی کیا حالت ہوتی ہے.... اووہ میں تو بھول گئ کہ سوتے ہوےُ انسان آدھا مرا ہوا ہوتا ہے اور میں نے تمہیں جگا دیا ہاہاہا.... نینی نے مشی کو کشن مارا اور بولی اب کیا مصیبت آگئ تھی.... جلدی اٹھو ملتان جانا ہے.... لیکن کیوں ؟؟؟ تم بھی بھول گئ. آپی کی منگنی ہے بدھو... بس نیند کی وجہ سے ہوش نہیں ورنہ یاد ہی تھا نینی نے منہ بسورا... مشی شاور لینے چلی گئ ..ایک گھنٹے بعد دونوں ڈیو ٹرمنل پر کھڑی تھیں اور تقریباً رات کے دس بجے وہ ملتان میں تھیں... نکلنے سے پہلے انہوں نے سعد, عادی, حماد اور ارم کو انوائیٹ کر دیا تھا...مشی بہت خوش تھی اس شہر میں اس کی بہت سی خوبصورت یادیں تھیں.... حیدر صاحب ان دونوں کو پک کرنے آےُ تھے مشے انہیں دیکھتے ہی ان کے گلے لگ گئ.. کیسی ہیں میری گڑیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگۓ لیکن بولی کچھ نہیں..... پاگل لڑکی رونے والی کیا بات ہے اسے خود سے الگ کرتے ہوےُ بولے اور پھر نینی سے حال احوال دریافت کرنے لگے.... مشی خوشی سے انہیں اپنی باتیں بتنے لگی... کتنا عجیب ہوتا ہے نہ باپ اور بیٹی کا رشتہ کہ ساتھ ہو تو یوں لگتا ہے کسی نے گھنا سایہ کر دیا ہو جو آپ کو شہزادی بنا کر رکھتا ہے ایسے ہی نہیں کہتے کہ بیٹیوں کے لاڈ باپ ہی اٹھایا کرتے ہیں........
****
مشی کے گھر آتے ہی جیسے رونق واپس آگئ سب کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے کسی کو وہ تنگ کرتی تو کوئ اسے تنگ کرتا... نینی آرام کی غرض سے روم میں تھی... اب بھی مشی بابا کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی اور میسم اسے تنگ کر رہا تھا.... مشی تمہارے لیے ہم نے کچھ بھی نہیں لیا تم پرانے سے ہی کام چلانا پڑے گا... کیوں؟ اگر نہیں بھی لیا تو میں جا کر لے آوُں گی مشی منہ بناتے ہوےُ بولی.... میں دیکھتا ہوں کہ تم کیسے گھر سے باہر کیسے نکلتی ہو. میسم غصے سے بولا مشی اس کے غصے سے واقف تھی اسی لیے روہانسی ہو گئ بابا جانی یہ کیا ہے اس سے اچھا تو مجھے بلاتے ہی نہ وہ رو دینے کو تھی.... جب کہ میسم مزے لے رہا تھا... بھلا آپ کے بغیر کیسے فنکشن ہوتا... اور میسم بس اب مزید میری بیٹی کو تنگ نہیں کرنا... آپ کی ماما نے ساری تیاری کی ہے آپ فکر نہ کرو... میسم ہنسنے لگا اور مشی اسے چڑانے لگی...... اگلے دن منگنی تھی اور لڑکے والے چونکہ آسلام آباد سے تھے اس لیے وہ آج ہی آچکے تھے وہ سب ہوٹل میں ٹھرے تھے اور گھر سارے کزنز سے بھرا پڑا تھا مشی نے رات میں ہی ڈانس کی پریکٹس کر لی کیونکہ ان کا کمپٹیشن تھا لڑکے والوں سے ساری رات انہی کاموں میں گزر گئ.... مشی سارے گھر میں گھومتی پھرتی نظر آ رہی تھی چونکہ وہ دو ہی بہنیں تھیں اس لیے ماما کے ساتھ سارے کام وہی دیکھ رہی تھی....مشی نے پارلر جانا تھا اور گھر میں اس وقت کوئ گاڑی نہیں کھڑی تھی اور اب وہ ماما کا سر کھا رہی تھی جب آپ کو پتہ تھا کہ میں نے جانا ہے تو پھر آپ نے کیوں سب کو جانے دیا... تھوڑا صبر کو لو ابھی بابا آ جائیں گے تو چلی جانا..... کیا ہے ماما پھر دیر ہوجاےُ گی مجھے نہیں پتہ مجھے ابھی جانا ہے.... توبہ ہے مشی میری جان چھوڑو میری اور بھی کام ہیں اور جا کر آرام سے بیٹھ جاؤ جب آئیں گے تو چلی جانا.... اس سے اچھا تو میں آپی کے ساتھ ہی چلی جاتی کہ کر پیر پٹختی چلی گئ.... وہ منہ پھلاےُ بیٹھی تھی جب اس کا کزن احد اس کے پاس آیا.. اگر کہو تو میں چھوڑ آتا ہوں.مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ. مشی نے ناک سکوڑتے ہوےُ کہا... اچھا چلو آئسکریم بھی کھلاؤں گا ورنہ پھر دیر سے جانا اب سوچ لو... وہ سامنے صوفے پر آ کر بیٹھ گیا.... ویسے تمہاری حرکتیں تو ایسے نہیں ہیں کہ تمہارے ساتھ جایا جاےُ لیکن چونکہ آئسکریم کی آفر یے تو انکار نہیں کروں گی.... جب کہ احد ہنسنے لگا یار کبھی تو عزت دے دیا کرو... اب تم چل رہے ہو یا میں کینسل کروں... ٹھیک ہے چلو بھئ.... وہ سارا سامان اٹھاتی اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئ راستے میں اس نے مشی کی فیورٹ جگہ سے آئسکریم لی اور پارلر چھوڑ دیا وہ تھینک یو کہتی اندر چلی گئ .نینی ندا آپی کے ساتھ پہلے ہی جا چکی تھی اور تیار بیٹھی تھی جب کہ ندا تیار ہو رہی تھی مشی نے کپڑے چینج کیے اور تیار ہونے کے لیے بیٹھ گئ
( جاری ہے )
اگلی قسط کل آئے گی
Comments
Post a Comment