نفرت سے شروع ہونے والی محبت کی داستان
قسط نمبر 6
سعد, عادی اور حماد آچکے تھے اور انہیں پک کرنے میسم نے جانا تھا پہلے اس نے نینی کو پارلر سے پک کیا اور پھر راستے میں ان تینوں کو بھی....نینی نے ان کو گیسٹ روم دکھایا اور جلدی تیار ہونے کی تاکید کی....
انگیجمینٹ کا ارینجمینٹ گھر کے ساتھ موجود خالی جگہ میں کیا گیا تھا زمین پر کارپٹ بچھاےُ ہوےُ تھے درمیان میں ایک بڑا سا فانوس لگا تھا ہر جگہ لائٹس لگائ گئیں تھیں سٹین دو بناےُ گۓ تھے ایک کپل کے لیے جو کافی اونچا تھا اور دوسرا ڈانس کے لیے جو اس سٹیج سے کچھ فاصلے پر تھا زمین سے چند انچ اوپر..... ہر چیز بہترین تھی... سب گھر والے ہال میں جمع ہو رہے تھے...نینی اور سعد لوگ بھی ہال میں تھے...... جب مشی اپنی بندیا سنبھالتی ہوئ نظر آئ اس نے فل بلیک ایمبرائیڈری والا سوٹ زیب تن کر رکھا تھا ماتھے پر بندیا لگاےُ بال کھول رکھے تھے لائٹ سا میک اپ کیےُ وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی آج نہ جانے کتنے اپنا دل گنوانے والے تھے..... عادی کی اس پر نظر پڑی تو واپس نہ ہوئ... اس نے پہلی بار مشی کو تیار ہوےُ دیکھا تھا اور بلاشبہ وہ بہت حسین لگ رہی تھی بلیک رنگ میں تو وہ قیامت لگتی.... مشی سب سے پہلے ان کی طرف ہی آگئ.... سفر وغیرہ کا پوچھنے لگی اور پھر آنے کے لیے شکریہ ادا کرتی چلی گئ.... عادی نے آج بلیو چیک والی شرٹ کے ساتھ بلیو ہی کوٹ پہن رکھا تھا ہاتھ میں رسٹ واچ بال جیل سے کھڑے کیے ہلکی ہلکی شیو میں وہ دلکش لگ رہا تھا اور اس پر اس کا مغرورانہ انداز جس کی ایک بار نظر پڑتی وہ دوبارہ ضرور دیکھتا.. مشی یہاں سے وہاں بھاگ رہی تھی ندا بھی آگئ تو رسم شروع کی گئ کیونکہ پہلے ہی کافی رات ہو چکی تھی.... رسم کے بعد ڈانس کا دور چلا سب لوگ سٹیج کے اردگرد بیٹھ گۓ ایک بار لڑکی والوں نے ڈانس کرنا تھا اور ایک بار لڑکے والوں نے مقابلہ شروع ہو گیا...سب سے پہلے مشی کا ڈانس تھا.. مشی ڈانس میں کافی ماہر تھی مشی نے میں چیز بڑی ہو مست مست پر ڈانس کیا صرف مشی پر لائٹس پڑ رہی تھی.... عادی کو اپنا دل بے قابو ہوتا دکھائ دے رہا تھا جب اس نے سعد کو کہا یار یہ میرا ایمان خراب کر رہی ہے... سعد ہنسنے لگا اور کہا کہ اب تو خود ہی سنبھال اپنی چڑیل کو کیونکہ وہ تو فل ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئ ہے مشی نے بہت زبردست ڈانس کیا ود ایکسپریشن سارا ہال تالیوں اور سیٹیوں کی آواز سے گونج اٹھا....مشی کے بعد لڑکے والوں کی طرف سے پرفامنس ہوئ جو مشی کی ہی طرح کمال کی تھی....سب ڈانس ہوگےُ اور مقابلہ ٹائ ہوا کیونکہ دونوں ہی برابر تھے.... مشی سٹیج پر گئ. میرا گفٹ؟؟؟ ہنزلا جو کہ مشی کا بہنوئ ہے سوچتے ہوےُ بولا کون سا گفٹ؟؟؟ واہ بی واہ ابھی تو صرف منگنی ہوئ ہے اور آپ کی یاداشت کمزور ہوگیُ ہے جب شادی ہو جاےُ گی پھر تو کہیں گے کون سی مشی؟؟ ندا اور ہنزلا ہنسنے لگے... ہاں تو تم یاد کروا دو اب آپ کی آپی کے ساتھ بیٹھ کر تو مجھے کچھ بھی نہیں یاد.... مشی گھورنے لگی آپ کو یاد ہو تو آپ نے بیٹ لگائ تھی کہ اگر اس منتھ انگیجمینٹ ہوئ تو میرا گفٹ آےُ گا اب لائیں دیں.... ہنزلا کی جاب آوٹ اوف کنٹری تھی اس نے اگلے مہینے منگنی کا کہا تھا جب کہ اس کی کمپنی کی طرف سے فون آگیا اور اسے جانا تھا سو اسی منتھ رکھ لی اور مشی بیٹ جیت چکی تھی... ہنزلا نے منہ بناتے ہوےُ مشی کے ہاتھ پر ایک چھوٹی سی ڈبی رکھ دی مشی نے کھول کر دیکھا تو اس میں ایک سمپل اور ڈیسینٹ سا بریسلٹ تھا.. تھینک یو سو مچ مشی کو بیت پسند آیا اور خوشی سے شکریہ ادا کرتی نیچے اتر گئ.. ہنزلا اور ندا مسکرا دئیے....
رات کے چار بج رہے تھے حیدر صاحب نے لڑکے والوں سے کہا کہ وہ رات یہیں رک جائیں اس وقت جانا مناسب نہیں. کافی اصرار کے بعد وہ لوگ مان گۓ....
مشی کچن میں سب کے لیے کافی بنا رہی تھی جب ہنزلا کا ایک کزن اِدھر آیا... مشی نے اسے دیکھا جی بولیں؟؟ آج آپ بہت خوبصورت لگ رہیں تھیں مشی سمجھ گئ کہ وہ کیوں آیا ہے
اچھااااا...... مشی نے اچھا کو لمبا کیا. مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میں اچھی لگ رہی تھی اگر آپ نہ بتاتے تو مجھے تو پتہ ہی نہیں چلنا تھا مشی نے انجان بننے کی ایکٹنگ کرتے ہوےُ کہا..جب کہ وہ ہنس دیا... میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں؟؟ وہ دورازہ نظر آرہا ہے نہ؟ جی!!! وہاں سے باہر کا راستہ ہے چلے جائیں.. آپ مہمان ہیں اسی لیے آرام سے سمجھا رہی ہوں ورنہ میرے پاس اور بھی بہت سے طریقے ہیں مشی نے دانت پیستے ہوےُ کہا باہر سے گزرتا ہوا عادی بھی یہ سب سن رہا تھا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئ.....
اس نے مشی کا راستہ روک لیا مشی نے اسے سامنے سے ہٹنے کو کہا لیکن وہ ڈھیٹ بنا کھڑا رہا تو مشی نے پانی کا گلاس اس پر الٹا دیا اس کی جگہ کافی کا کپ بھی ہو سکتا تھا خوش نصیب ہیں آپ کہ بچت ہو گئ ..اس کی شرٹ گیلی ہو گئ تو چینج کرنے چلا گیا... مشی ٹرے میں مگ رکھ رہی تھی جب عادی پانی پینے آیا... ارے آپ.. مشی مسکرائ.. جی وہ مجھے پانی چائیے تھا ..عادی ہچکچا رہا تھا ... ایک منٹ مشی اس کے لیے پانی ڈالنے لگی اور اسے گلاس دیا... عادی پانی پیتے ہوےُ بولا آج تو لڑائ نہیں کریں گیں مجھ سے... نہیں مشی مسکراتی ہوئ بولی آپ مہمان ہیں میرے سو مجبور ہوں نہیں کر سکتی مشی نے لاچاری سے کندھے اچکاےُ عادی مسکراتا ہوا باہر چلا گیا...
سعد میں مشی کو اب مزید مہلت نہیں دینا چاہتا بہت دیکھ لی اس نے زندگی کی رنگینیاں لیکن اب اور نہیں جب جب میں اسے اس طرح پر سکون مسکراتی ہوئ دیکھتا ہوں نہ تو تکلیف مزید بڑھ جاتی ہیں خون کھولتا ہے میرا سوچ تو ہم چکے ہی ہیں کہ کیسے اسے راستے سے ہٹانا ہے اب جیسے ہی وہ لاہور آےُ گی فوراً اپنے پلان پر عمل کرنا ہے وہ لاہور آےُ گی اور سب ختم.... عادی کہ کر پرسکون ہو گی تھا جب کہ سعد نے صرف ٹھیک ہے کہنے پر اکتفا کیا..... عادی کے سامنے سکون سے چکر کاٹتی مشی تھی جو نیچے گارڈن میں واک کر رہی تھی وہ سمجھ رہی تھی کہ شاید اس کے اور عادی کے بیچ سب ٹھیک ہو گیا ہے لیکن وہ آنے والے خطرے سے یکسر انجان تھی نہ جانے زندگی اسے کس موڑ پر لے جانے والی تھی...
*********
مشی نے ہنزلا کے کزن کی کافی میں جمال گوٹا ملا کر اسے کافی پلا دی تھی اب دیکھنا نینی کیسے یہ واش ورم کے علاوہ کہیں نظر نہیں آےُ گا مشی مزے لے کر نینی کو بتا رہی تھی سب لوگ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے.. کافی پینے کے تھوڑی دیر بعد وہ لڑکا واش روم گیا اور اس کے بعد تو یہی چلتا رہا وہ واپس آتا اور کچھ دیر بعد پھر چلا جاتا مشی اور نینی اس کی حالت پر قہقہے لگا رہیں تھیں آج رات تو پکا نہیں سونے والا وہ لان میں واک کر رہی تھی جب اس نے نینی سے کہا.. بلکل تم نے اسے سونے لائق چھوڑا ہوتا تو پھر نہ..... ہاہاہاہا کچھ دیر بعد وہ دونوں سونے کے لیے مشی کے روم میں چلی گئیں.
___________
ہنزلا کا کزن ہادی ساری رات سو نہیں سکا اور صبح ہوتے ہی ڈاکٹر کا رخ کیا اسے لگا کہ شاید ملتان کا پانی راس نہیں آیا لیکن اب اس بیچارے کو کیا پتہ کی اسے مشی راس نہیں آئ. ناشتہ کرنے کے بعد سارے مہمان چلے گۓ اسلام آباد والے بھی اور مشی کے کزن بھی.. اب گھر میں مشی کے دوست ہی رہ گۓ تھے جنہیں نینی نے روک رکھا تھا.. یار عادی تم تھوڑا لیٹ چلے جانا کیا ہو جاۓ گا میں اور مشی بھی تم لوگوں کے ساتھ جائیں گیں اور کافی بحث کے بعد بلاآخر عادی مان گیا تھا...مشی ابھی کچھ دن رکنا چاہتی تھی لیکن چونکہ یونی میں پارٹی ہونے والی تھی جس کی تیاری ان سب کو ابھی کرنی تھی اس لیے مجبوراً جلدی جانا پڑ رہا تھا مشی لاؤنج میں منہ پھلاےُ بیٹھی تھی جب اس کے بابا اس کے پاس آےُ.. کیا ہو گیا بھئ ہماری گڑیا کو... بابا جانی میرا ابھی دل نہیں کر رہا واپس جانے کو ابھی تو میں نے آپ سے کوئ لاڈ بھی نہیں اٹھواےُ.... ہاں تو کس نے منع کیا ہے بتائیں مجھے میں ابھی کلاس لیتا ہوں.... یونی والوں کی کہ کر ہنسنے لگی... یونی والوں مطلب انہیں مشی کا مطلب سمجھ نہ آیا...مطلب یہ بابا جانی کہ یونی میں پارٹی ہے جس کی تیاری کرنی ہے اس لیے جانا پڑے گا مشی نے منہ پھلا لیا تو انہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا... تو میری بیٹی کی ہی خواہش تھی نہ جانے کی پھر اب کیا کر سکتے ہیں... ابھی اگر ماما نے سن لیا نہ تو میری کلاس تو پکی مشی رازداری سے بولی... بلکل اور آپ کے ساتھ میری بھی مشی مسکرانے لگی... بس ایسے ہی میرا بیٹا مسکراتا رہا کرے انہوں نے اس کے سر پر بوسہ دیا اور ڈھیروں دعائین دیں... مشی انہیں بامب والا قصہ سنانے لگے اور وہ پوری تجہ سے سننے لگے لیکن پوری ہونے سے پہلے ہی نینی اسے بلانے آگئ بابا جانی باقی میں آپ کو کال پر بتاؤں گی کہ کر چلی گئ .....مشی یار اپنا جو سامان لے کر جانا ہے پیک کر لو میں نے بہت مشکل سے عادی کو روکا ہے... کیا ضرورت تھی اس مغرور قوم کو روکنے کی ہم اکیلے چلے جاتے اس کے بغیر کیا ہمیں لاہور کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا نہ جیسے مشی جل کر بولی... اچھا اب بعد میں اپنی بھڑاس نکانا ابھی کام کرو مشی بھی اپنی پیکنگ کرنے لگی ان کی دوپہر کی بوکنگ تھی اس لیے جلدی جلدی سارے کام نمٹانے لگے....
نکلتے وقت جب مشی بابا سے مل رہی تھی تو وہ رونے لگے میرے گھر کی رونق پھر جا رہی ہے مشی بھی رونے لگی تھی.... ڈرامہ قیوین عادی بڑبڑایا لیکن مشی نے سن لیا.... مشی مجھے لگتا ہے تم تھوڑی سی پاگل ہوگیُ ہو ہم تمہاری بدائ نہیں کر رہے جو بھاں بھاں کر رہی ہو میسم اسے بابا سے الگ کرتے ہوےُ بولا.. بابا جانی کیا ہے انہیں مشی چڑ گئ.. مجھے پتہ ہے آپ مجھ سے جیلس ہوتے ہیں اس لیے یہ سب بولتے ہیں. میں کیوں جیلس ہوں بھلا مجھے تم سے زیادہ پیار ملتا جیسے کہ ماما کا میسم اسے چڑانے لگا.... بابا جانی کسی دن میں ان سے بہت لڑنے والی ہوں پھر پتہ چلے گا مشی کا.... اچھا طلو بس تنگ نہ کرو میری گڑیا کو میسم.... وہ جی اچھا کہ کر ہنسنے لگا... مشی چلیں دیر ہو رہی ہے عادی اکتاہٹ سے بولا. مشی غصہ سے جی کہ کر نکل گئ.... میسم ایسا ہی تھا مشی دوسروں کو تنگ کرتی تھی اور وہ مشی کو... بھائ ایسے ہی ہوتے ہیں پیار تو بہت کرتے ہیں لیکن دکھاتے نہیں ان کی انہیں شرارتوں میں پیار چھپا ہوتا ہے ضرورت ہے کہ ہم اسے اس پیار کو دیکھیں اب بھی اس نے مشی کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے ایسا کیا تھا لیکن وہ ابھی اس طرح کے چھپے ہوےُ پہار کو دیکھنے کے قابل نہیں ہوئ تھی زیادہ تر حساس لوگ ہی اس طرح کا پہار پہچان پاتے ہیں ورنہ کچھ مشی کی طرح سوچتے ہیں کہ وہ ہم سے پیار نہیں کرتے لیکن ان کا یہی طریقہ ہوتا ہے پیار دکھانے کا......
**********
گاڑی میں بیٹھتے ہی مشی شروع ہو گئ.... آپ کو کیا مسئلہ ہو رہا تھا ہاں بتائیں زرا معید... میں نے کیا کہا ہے اب آپ کو؟؟؟ کیا کہ رہے تھے ڈرامےباز ہاں؟ ہاں تو ڈرامے ہی کر رہیں تھیں پہلے آپ کی وجہ سے لیٹ جا رہے ہیں اور اب مزید دیر کر رہیں تھیں... اس سے پہلے کہ مشی کچھ بولتی سعد نے دونوں کا خاموش کروا دیا پلیز یار کبھی تو تم دونوں یہ سب بند کر دیا کرو ساری رات جاگنے سے پہلے ہی سر میں درد ہو رہا ہے اور اب تم دونوں شروع ہو جاؤ پتہ نہیں کب بڑے ہو گۓ سعد غصے سے بول رہا تھا اس لیے دونوں چپ ہوگےُ مشی منہ میں بڑبڑانے لگی.....
تقریباً سارا راستہ وہ سب سوتے ہوےُ گۓ کیونکہ رات میں کوئ نہیں سویا تھا اور صبح بھی جلدی اٹھ گۓ تھے... مشی کی آنکھ کھلی تو وہ سب سو رہے تھے کچھ دہر وہ فون یوز کرتی رہی لیکن پھر سگنل چلے گۓ... لو جی اسے بھی ابھی جانا تھا مشی فون بیگ میں رکھتے ہوےُ بولی اب کیا کروں سب تو سو رہے ہیں اس نے سونے کی کوشش کی لیکن نیند نہ آئ تو پھر اس کا شرارتی دماغ چلنے لگا اس نے پھر سے فون نکالا اور سب کی سوتے ہوےُ ویڈیو بنانے لگی سعد خراٹے لے رہا تھا تو باقی سب بھی کوئ کس حال میں تھا کوئ کس حال میں ویڈیو بنانے کے بعد وہ آرام سے اپنی جگہ پر واپس آگئ..... وہ بار بار فون چیک کرنے لگی پھر جیسے ہی سگنل آےُ اس نے فیسبک پر ان سب کی ویڈیو ڈال دی جس کا عنوان تھا کہ یہ سب ڈرگز کے نشے میں ہیں خدارا ان سے دور رہیں ساتھ میں ان سب کو ٹیگ بھی کر دیا تاکہ وہ محروم نہ رہ جائیں .. مزہ اسے عادی کو چکھانا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ باقی سب کی بھی شامت آئ... گاڑی میں میں چپ کر گئ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسٹر معید احمد میں آپ کو بخش دوں گی وہ ابھی سے ان کے ری ایکشن سوچ سوچ کر ہنسنے لگی اور پھر اب اسے پھر سے نیند آگئ اس کی نیند بھی اسی کے جیسی تھی ڈرامےباز پہلے آئ نہیں اور اب کام ہونے کے بعد آگی.......
********
جیسے ہی وہ لوگ لاہور پہنچے مشی نے جلدی کی رٹ لگا لی وہ چاہتی تھی کہ سب کو اس کے کارنامے کا گھر جا کر پتہ چلے تاکہ مشی کو کچھ کہ نہ سکیں 🙊🙊🙊 اب تم کیوں ہنس رہی ہو نینی نے مشی سے پوچھا کچھ بھی تو نہیں... نینی کا ڈرائیور آچکا تھا اور انہیں ہاسٹل چھوڑ گیا... ان تینوں کو بھی لینے آرہے تھے مشی جلدی سے چینج کر کے سونے چلی گئ تاکہ نینی کے عتاب سے بچ سکے.... مشی تم. مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو نہ نینی نے جانچتی نظروں سے دیکھا.... بلکل بھی نہیں سیریس ہو کر جواب دیا....پھر تم ہنس کیوں رہی ہو بار بار تم نے یقیناً کوئ نہ کوئ کارنامہ سر انجام دیا ہو گا بتاؤں مجھے بیسٹ فرینڈ تھی کیسے نہ سمجھتی... نہیں یار کچھ بھی نہیں وہ تو مجھے ہادی والی بات پر ہنسی آرہی تھی نینی بھی مسکرانے لگی. اچھا پھر ٹھیک ہے وہ مطمئن ہوگی تو مشی سو گئ شکر ہے اسے پتہ نہیں چلا ورنہ سارا پلان خراب کر دیتی مشی مسکراتی سو گئ...
*********
مشی نینی سے پہلے ہی اٹھ گئ تھی لیکن نینی نے اٹھتے ہی فیسبک چیک کی تو حیرت سے آنکھیں کھل گئیں مشی سمجھ گئ تھی اس لیے بھاگنے کی تیاری کرنے لگی.. مشی کی بچی تم بچ کر دکھانا اب میرے ہاتھ سے تمہارا خون عادی کرے نہ کرے میں ضرور کروں گی نینی خطرناک تیوروں سے بولتی ہوئ اٹھی ہی کہ مشی نے سپیڈ لگائ اور باہر نکل گئ نینی ہیچھے سے اسے بولنے لگی... مشی تم نہ ایک نمبر کی ڈیش انسان ہو کہنے کے ساتھ ہی اسے یہی ٹیکسٹ بھی کر دیا... تھینک یو میری پیاری نینو ساتھ لو والا ایموجی بھیجا نینی فون پھینک کر شاور لینے لگی کہ اسے تو یونی میں پوچھوں گی کہاں تک بھاگے گی...
راستے میں مشی کو انجان نمبر سے کال آنے لگی اس نے پک کی... ہیلو؟ ہیلو کی بچی یہ کیا حرکت کی ہے تم نے اب تم مجھ سے بچ کر دکھاوُ تمہارے نہ میں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے ہیں... یہ غالباً عادی تھا.... تو وہ ٹکڑے کیا آپ پرندوں کو کھلائیں گے یا خود کھانے کا ارادہ ہے مشی نے مسکراہٹ روکتے ہوےُ کہا... وہ. میں جس کو بھی کہو اگر اپنی خیر چاہتی ہو نہ تو میرے سامنے مت آنا.... اچھا اور اگر آگئ پھر. مشی نے سوچتے ہوےُ کہا... پھر اپنی خیر منانا اور کھٹاک سے فون بند کر دیا مشی عادی کا پلان خراب کر رہی تھی اسے مزید غصہ آرہا تھا نہیں آج کچھ بھی ہو جاےُ مجھے یہ سب ختم کرنا ہے ہھر چاہے اس کی یہ بکواس بھی برداشت کیوں نہ کرنی پڑے... یہ لڑکی بھی پتہ نہیں کیا چیز ہے عادی نے نفرت سے سوچا بس آج کا دن اس کے بعد یہ سب کبھی نظر نہیں آےُ گا سوچ کر وہ پرسکون ہو گیا اور تیار ہونے لگا .....عادی نے آج وائیٹ شرٹ کے ساتھ وائیٹ ہی پینٹ پہنی تھی کلین شیو میں وہ پہلے سے زیادہ ڈیشنگ لگ رہا تھا سپرے کرتے ہوےُ وہ اپنے پلان کو سوچتے ہوےُ مسکرا دیا بس مس مسکان آج آر یا پار والا کام کرنا ہے.... ہیلو سعد سب کچھ ریڈی ہے نہ بس خیال کرنا کہ کسی کو پتہ نہ چلے نہ ہی کوئ گڑ بڑ ہو... ہاں مجھے پتہ ہے اس پاگل کے اس کارنامے کا لیکن اگر آج یہ کام کرنا ہے تو پھر اسے نظر انداز کرنا پڑے گا عادی بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا..... ٹھیک کہ رہا ہے آج تمہاری کسی شرط پے بھی لڑائ نہ ہو.... اووکے کہ کر عادی نے فون کاٹ دیا اور یونی کے لیے روانہ ہوا گاڑی میں اس نے سونگ پلے کر دیا تھا اور مسرور سا انجواےُ کرنے لگا.....
مشی جیسے ہی کیفے میں آئ جہاں سب اس کے منتظر تھے... آئیں میڈم اگر یونی دیکھ لی ہو تو زرا تشریف رکھیں.. مشی آنے کے بعد یونی میں گھومتی رہی پھر تھک کر کیفے میں آگئ جہاں سب اس کر منتظر تھے... دیکھا جاۓ گا اب.... آج سارے اس کا شکار کرنے کے لیے تیار تھے لیکن عادی نے اسے یہ کہ کر بچا لیا کہ اگر آپ اپنی ان حرکتوں سے ہمیں محفوظ رکھنے کی یقین دہانی کرواتیں ہیں تو ہم سب آپ کو ایک موقع دیتے ہیں ورنہ خود ہینڈل کر لیں سب کو کہ کر بے نیاز سا ہو کر بیٹھ گیا... مشی نے سب کے چہرے دیکھے جو اسے گھور رہے تھے اس نے کچھ سوچ کر عادی کی بات مان لی.....
پھر وہ سب پارٹی کی تیاری کر لیے ہال میں شلے گۓ نینی نے بھی مشی کو بخش دیا تھا کیا یاد کرو گی کہ کس دوست سے پالہ پڑا ہے مسکرا کر کہنے لگی... مشی مسکرا دی مشی نے وہ ویڈیو بھی ڈیلیٹ کر دی تھی.... اور اب وہ لوگ پرفامینس وغیرہ ارینج کر رہے تھے.... میں ہوسٹ کروں گی مشی جوش سے بولی... خبردار مشی اگر تم نے سٹیج پر بولنے کا نام بھی لیا تو. چاہے تو مینیج کر لو لیکن یہ نہیں... ان کے ساتھ اور بھی سٹوڈنٹس موجود تھے.. نینی یار کیا ہو گیا اب نہیں کروں گی پکا!!! سب لاعلمی کے عالم میں ان دونوں کو سن رہے تھے.... نینی کسی دوسری لڑکی سے بات کرنے لگی جب مشی نے کڑھتے ہوےُ کہا..... مشورہ بھی دیکھو کس سے لے رہی ہو ٹوٹی ہوئ چوڑی کے منہ والی سے.... نینی سمیت عادی کی ہنسی نکل گئ پھر وہ خود بھی ہنسنے لگی... مشی تھوڑی سی تمیز کر لو آنٹی ٹھیک کہتی ہیں تم دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہو کوئ ہونا چائیے تمہیں سیدھا کرنے والا مشی منہ موڑ کر بیٹھ گئ..... نینی تم مشی کو سٹیج پر کیوں نہیں جانے دے رہی وہ کافی کانفیڈینٹ ہے یہی تو مسئلہ ہے سعد... مطلب؟؟؟ نینی نے بتانا شروع کیا مشی نے فرسٹ ائیر میں ضد کر کے سپیچ میں پارٹیسیپیٹ کیا اور جو کچھ اس نے کیا اب وہ بتاتی ہوں.... اس میڈم کو شعر بولنے نہیں آتے تھے میم نے میرے کہنے اور مشی کے کانفیڈینس کو دیکھ کر اسے چیک کیے بنا ہی رکھ لیا... اب سٹیج پر جب شعر پڑھنے کی باری آئ تو اس کے دانت ہی اندر نہ ہوں نہ تو شعر پڑھنے آئیں اور باقی سپیچ اس نے ہنس ہنس کر خراب کر دی لیکن داد دینہ چائیے اس اب کر باوجود بھی یہ سٹیج پر بڑی پراعتماد تھی اور میں اسے دل ہی دل میں کوس رہی تھی پھر اس نے اختتام ان الفاظ سے کیا
میں اپنی دوست ثنا کی شکر گزار ہوں جو مجھے یہاں تک لائ اور میری اس ادنی سی کوشش کے پیچھے وہی ہے جس نے مجھے اس مقام پر پہنچایا اور میں اسے پیچھے سے لعنتیں دے رہی تھی اور اس نے پورے اعتماد کے ساتھ سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سب کچھ کہا تھا آخر میں پھر اپنی ہنسی سب کو سنا کر آئ اور میرا دل کر رہا تھا کہ میں اس کا خون کر دوں... مشی سمیت سب ہنس رہے تھے.... یہ واقعہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ جناب کبھی بھی سیریس نہیں رہ سکتی اس لیے میں ایک اور بار نہ رسک لینا چاہتی ہوں نہ ہی اپنی عزت کا جنازہ نکالنا چاہتی ہوں پورا ہال ابھی بھی ان کر قہقہوں سے گونج رہا تھا.... اف مشی تم کیا چیز ہو آخر سعد نے پوچھا... بس دیکھ لو میری جیسی کہیں سے نہیں ملے گی مشی نے اتراتے ہوےُ کہا... بلکل کہ کر سعد پھر سے ہنسنے لگا... کافی دیر وہ لوگ بیٹھے ڈسکشن کرتے رہے جب عادی نے سعد کو سگنل دیا تو وہ نینی کو لے کر چلا گیا مشی اپنے فون میں مگن تھی ویسے بھی اسے مینج کرنے کے علاوہ کچھ نہیں دیا تھا اس لیے ہینڈ فری لگاےُ مووی دیکھنے لگی... کچھ دیر میں ان کے گروپ کے سارے ممبر چلے گۓ سواےُ عادی کے اور باقی دو تین دوسرے سٹوڈنٹس بیٹھے تھے... مشی نے منہ اٹھا کر دیکھا سب چلے گۓ کیا؟ عادی سے پوچھا.. جی چلے گۓ.... نینی نے مشی کو میسج کر دیا تھا کہ وہ سعد کے ساتھ ہے تو وہ ہاسٹل آج خود چلی جاۓ... مشی سامان سمیٹے پریشان سی باہر چل دی. عادی بھی ساتھ چل پڑا... کیا ہوا کوئ پریشانی ہے؟؟ نہیں بس نینی چلی گئ ہے تو وہی سوش رہی تھی... اگر آپ کہو تو میں ڈراپ کر دیتا ہوں. نہیں میں اکیلی چلی جاؤں گی.. آپ سعد کے ساتھ چلی جاتی ہو لیکن میرے ساتھ جانے سے انکار کر رہی ہو مطلب ابھی بھی آپ نے پرانی باتیں اپنے دل سے نہیں نکالیں عادی خفا ہو کر بولا... نہیں ایسی کوئ بات نہیں... اگر ایسی بات نہ ہوتی تو آپ انکار نہ کرتیں ٹھیک ہے پھر آپ کی مرضی... ایک تو آج عادی نے اسے سب سے بچایا تھا دوسرا وہ اکیلی جانے سے کترا رہی تھی اپنے شہر میں تو جیسے مرضے چلے جاتی تھی لیکن ماما نے منع کیا تھا کہ وہ انجان شہر ہے وہاں ایسے نہیں کرنا... عادی گن رہا تھا کہ اب وہ اسے آواز دیتی اب دیتی اور اس نے دے دی... ٹھیک ہے آپ مجھے ڈراپ کر دیں مشی نے مسکراتے ہوےُ کہا... آجائیں وہ دونوں پارکنگ میں آگۓ جہاں عادی کی گاڑی کھڑی تھی مشی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ... عادی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی سٹارٹ کر دی عادی کو پتی تھا جتنی وہ نازک ہے اسے یقیناً سموک سے الرجی ہو گی اور وہی ہوا اسے کھانسی آنے لگی عادی نے اپنی پانی والی بوتل دی جو گاڑی میں پڑی تھی اس پانی میں بے ہوشی کی دوائ تھی... عادی مسکرانے لگا کہ اب اس کا پلان کسی شرط پر بھی فیل نہیں ہو سکتا یو نے سے نکلتے وقت بھی انہیں کسی نے نہیں دیکھا تھا.... کچھ دیر بعد مشی کو چکر آنے لگے اسے لگا شاید بھوک کی وجہ سے ہے لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوچتی وہ اردگرد سے بیگانہ ہوگیُ عادی نے اسے ہلا کر چیک کیا وہ مکمل بے ہوشی کے عالم میں تھی.... عادی نے اپنے فارم ہاؤس پہنچ کر گاڑی روکی... دروازہ کھول کر مشی کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا عادی کی نظر اس کے معصوم چہرے پر پڑی تو اس کے دل نے اسے یہ سب کرنے سے منع کیا لیکن وہ اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر اندر اپنے بیڈ روم میں لے گیا اور احتیاط سے اسے بیڈ پر لٹا دیا... کاش مشی وہ سب نہ کرتی تو میں کبھی ایسا نہ کرتا کاش آپ نہ کرتی وہ ہوش سے بیگانہ وجود سے مخاطب ہوا... آپ نے مجھے مجبور کیا ہے یہ سب کرنے کے لیے اور اب میں ایک بار بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہی. کروں گا اب آپ کو اس سب کا نتیجہ بھگتنا ہو گا.... اس نے سیگرٹ سلگایُ اور صوفے پر بیٹھ کر پینے لگا نظریں اس کے چہرے پر تھیں کبھی ہٹا لیتا تو کبھی پھر واپس اسی پر رکھ لیتا.....کچھ دیر میں مشی کو ہوش آنے لگا تو وہ حیرت سے دیکھنے لگی میں کہاں پھر اس نے مڑ کر دیکھا تو عادی بیٹھا سموکنگ کر رہا تھا۔
(جاری ہے۔ )
اگلی قسط کل آئے گی
Comments
Post a Comment